قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے دو وزراء میں تصادم، بےہودہ زبان کا کھلا استعمال
ذرائع کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ جاوید عباسی اور جاوید لطیف کے درمیان جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب جاوید لطیف کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے وزراء مرتضیٰ جاوید عباسی اور جاوید لطیف کے درمیان اختلاف رائے کے بعد دونوں جانب سے نازیبا زبان اور نامناسب ریمارکس کے بعد صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی اور پارٹی کے ہی وفاقی وزیر جاوید لطیف کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی غلط بیانی نے آئی ایم ایف پروگرام کا حصول ناممکن بنا دیا
پنجاب میں بیروزگاری کی شرح سات فیصد تک جا پہنچی، گیلپ اور پرائیڈ کا تجزیہ
مرتضیٰ جاوید عباسی اور جاوید لطیف نے سخت زبان اور نامناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر جسمانی تشدد کی بھی کوشش کی۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمان کانجو، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر ارکان نے مداخلت کرکے صورتحال کو کنٹرول کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ مرتضیٰ جاوید عباسی کو پکڑ کر خواجہ آصف کے قریب لے گئے اور انہیں کے قریب بٹھا دیا۔
صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیر جاوید لطیف کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی سائرہ بانو نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ سائرہ بانو نے کہا کہ لوگ اپنے طور پر بول رہے تھے کیونکہ بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہمیں بولنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔









