پاکستان میں سالانہ 4 ارب ڈالر کی غذا ضائع کردی جاتی ہے، رپورٹ

پائیڈ (PIDE) کی رپورٹ کے مطابق ہم سالانہ ملکی پیداوار کی تقریباً 26 فیصد خوراک ضائع کر دیتے ہیں یعنی پاکستان میں سالانہ چار ارب ڈالرز کی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) (PIDE) نے ملک میں ہر سال 4 ارب ڈالر کی خوراک ضائع ہونے کا انکشاف کردیا۔

سرکاری ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) (PIDE) نے وزارت غذائی تحفظ کو ایک تحقیقاتی رپورٹ فراہم کی ہے۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں خوراک کا ایک بڑا حصہ مجرمانہ حد تک ضائع ہوجاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان شدید غذائی قلت کا شکار، ہم ہر برس 4 ارب ڈالرز کی خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہم سالانہ ملکی پیداوار کی تقریباً 26 فیصد خوراک ضائع کر دیتے ہیں یعنی پاکستان میں سالانہ چار ارب ڈالرز کی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

فاطمہ بھٹو نے پھر سندھ حکومت کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا

پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ، رپورٹ

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں خوراک کا سالانہ ضیاع 19.6 ملین ٹن ہے۔ ہر برس کئی اقدامات کے باعث کروڑوں ٹن غذا کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ شکل ، سائز اور رنگ کے لحاظ سے معیار پر پورا نہ اترنے والی تازہ خوراک ضائع کردی جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق چھانٹی کے عمل کے دوران خوراک اکثر سپلائی کے سلسلے سے نکال دی جاتی ہے۔ غذائی اشیا استعمال کی حتمی تاریخ ، تاریخ کے قریب یا تاریخ گزر جانے پر دکان دار یا صارفین غذا کو ضائع کردیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت بخش غذائی اشیاء کی زیادہ مقدار باورچی خانوں اور کھانے پینے کے مراکز پر ضائع ہو جاتی ہیں، باورچی خانوں میں اکثر غذائی اشیاء استعمال نہیں ہوتیں یا چھوڑ دی جاتی ہیں، گھروں اور کھانے پینے کے مراکز میں غذائی اشیاء ضرورت سے زائد پکائی جاتی ہیں جس کے سبب وہ ضائع ہو جاتی ہیں۔

پائیڈ (PIDE) کی دستاویزات کے مطابق ملک میں اجناس اور پھلوں کو محفوظ کرنے کی سہولیات کا فقدان بھی غذائی اشیاء کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔ خوراک کا ضیاع انفرادی عمل ہے، آگاہی مہم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ملک میں پھلوں اور سبزیوں کو ترو تازہ رکھنے کےلیے جس درجہ حرارت یا کول چین کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

متعلقہ تحاریر