سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کے بل پر فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیاسی معاملات نے سپریم کورٹ کا ماحول آلودہ کر دیا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کو مقدمے میں فریقین کی جانب سے سنجیدہ بحث کی توقع ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے 

پاکستان کا واشنگٹن پوسٹ کی خبر پر تبصرے سے انکار؛ امریکی و چینی حکام بھی خاموش

فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 16 مئی تک ملتوی

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کی سماعت ہوئی ، جس کے تحت پارلیمان سے مشترکہ طور پر منظور کیے گئے قانون کے تحت چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان (سی جے پی) عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر لارجر بینچ نے سماعت کی۔ آج کی سماعت کے دوران تین اہم نکات سامنے آئے۔

  • سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف عدالت کے حکم امتناع کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
  • سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان اور پاکستان بار کونسل نے موجودہ مقدمے میں فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔
  • دوران سماعت یہ بھی ریمارکس دیئے گئے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے پریکٹس ایند پروسیجر بل 2023 کے تحت جو قانون سازی کی گئی ہے ، اس سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کسی ایسی استدعا کو منظور نہیں کرے گی کہ کس جج کو پینل میں شامل کرنا ہےیا نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ کسی ذاتی خواہش پر لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ایک بڑی  کمپین چلائی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جس میں تمام ججز کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ تمام ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے مزید ریمارکس دیئے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو ہی تبدیل کردیا جائے۔ قانون سازی کے اختیارات سے متعلق وفاقی فہرست کے کچھ حدودوقیود بھی ہیں۔

سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی منظوری کے وقت کا پارلیمان کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ وفاقی قانون سازی کے سیکشن 55 کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی پروسیٹنگ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے وکیل نے دلیل دی کہ کونسل نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ مناسب ہوگا کہ اس کیس کی سماعت کے لیے ایک فل کورٹ تشکیل دی جائے جس میں سات سینئر ترین ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل  دیا جائے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جب تک سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اپنی رائے نہیں دیتی تب تک کسی جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا، اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی کے دوران اسی فیصلے کا حوالہ دیا۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں

پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف تینوں درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ایڈووکیٹ محمد شفیع منیر، راجہ عامر خان، چوہدری غلام حسین اور دیگر نے دائر کی ہیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ بل کو بدنیتی کی بنیاد پر قانونی شکل دی گئی ، اس لیے اسے فوری طور رپ ختم کردیا جائے۔

کیس میں وفاقی حکومت، سیکرٹری قانون کے علاوہ وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹریز کو مدعا علیہ نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران بل کو معطل کیا جائے، صدر علوی کو بل کی منظوری نہ دینے کی ہدایت کی جائے تاکہ یہ پارلیمنٹ کا ایکٹ نہ بن سکے۔

درخواستوں کے مطابق وفاقی حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو آئین کے تحت سپریم کورٹ کے کام کرنے یا اس کے ججز بشمول چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) کے اختیارات کو محدود کرے۔

متعلقہ تحاریر