آل پارٹیز کانفرنس نے ملک میں انتخابات ایک ہی دن میں کرانے کا مطالبہ کردیا

اے این پی کے زیر اہتمام اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ سیاسی فیصلوں کی جگہ ہیں، سیاسی فیصلے عدالتوں میں جائیں گے تو عدالتی بحران پیدا ہوگا۔

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے ملک بھر میں انتخابات ایک ہی دن کرانے کا مطالبہ کردیا۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جب بھی انتخابات کرائے جائیں ، وہ ایک ہی دن کرائے جائیں تب ہی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

نوازشریف کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

بشریٰ بی بی کا مریم نواز پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ، فواد چوہدری

اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کے تنازع کے حل کے لیے تمام آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں باہمی گفت و شنید کے ذریعے انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کریں تاکہ پورے ملک میں منصفانہ مردم شماری کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔

"سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ سیاسی فیصلوں کی جگہ قرار”

اے این پی کے زیر اہتمام اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ سیاسی فیصلوں کی جگہ ہیں، سیاسی فیصلے عدالتوں میں جائیں گے تو عدالتی بحران پیدا ہوگا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی، عدالتی اور معاشی بحران نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، سیاست ختم ہوئی تو آئینی اور پارلیمانی بالادستی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، پارلیمانی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پورے ملک میں حالیہ مردم شماری کے حوالے سے تحفظات دور کیے جائیں بالخصوص پختونخوا کے نئے اضلاع، کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر پشتون علاقوں ، کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں نئی منصفانہ حلقہ بندیوں کو یقینی بنایا جائے۔

کےپی اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشتگردی کی نئی لہر

اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی نئی لہر نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی شروع ہوئی اور 2014 میں متفقہ نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، غیر آئینی مذاکرات، دہشت گردوں کی آباد کاری، بتھوں کی شکل میں ان کی فنڈنگ اور جیلوں سے رہائی نے دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ عوام نے ماضی کے تمام فوجی آپریشنز پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان آپریشنز کی وجہ سے دہشت گردوں کے بجائے عوام کو اپنی جان و مال کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

خیبر پختونخوا میں لاگو ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کو ختم کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام دشمن کارروائیوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ٹارگٹڈ اور موثر کارروائی کی جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پختونخوا میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کے نفاذ جیسے عوام دشمن اور مارشل لاء جیسے قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ عدالتی بحران اور سپریم کورٹ کی تقسیم انتہائی افسوسناک ہے۔

"ایک نئی معاہدہ معیشت تشکیل دیا جائے”

اس کے علاوہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ نیا اقتصادی چارٹر بنایا جائے، صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی قسم کی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اٹھارویں آئینی ترمیم کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے اور بجلی کے خالص منافع اور گیس و پیٹرول کی سرچارج اور رائلٹی اور اس طرح کے دیگر صوبائی آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

متعلقہ تحاریر