عمران خان کے الزامات ’ناقابل قبول‘: آئی ایس پی آر
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سوچی سمجھی حکمت عملی اور سیاسی فائدے کے لیے جھوٹ پر مبنی سنسنی خیز پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک سینئر حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس سے فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات کا بدقسمتی اور افسوسناک رجحان گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاک فضائیہ نے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اعزازی پائلٹ بنا دیا
سی ٹی ڈی کی پنجاب کے مختلف شہروں میں کارروائیاں، 11 مشتبہ دہشتگرد گرفتار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ” ایک سال سے وتیرہ رہا ہے کہ فوجی اور انٹیلیجنس افسران کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، متعلقہ سیاسی رہنما جھوٹے الزامات کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اور سیاسی فائدے کے لیے جھوٹ پر مبنی سنسنی خیز پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان جھوٹے الزامات کے جواب میں، متعلقہ سیاسی رہنما پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر وہ حقیقی طور پر اپنے دعوؤں کی درستگی پر یقین رکھتے ہیں تو وہ قانونی راستہ اختیار کریں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کے ادارے کی ساکھ اور سالمیت کو نقصان پہنچانے والے بے بنیاد الزامات لگانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ بطور عسکری ادارہ، ان بے بنیاد الزامات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اس بات پر زور دیتے ہیں وہ ایسے بیانات اور پروپیگنڈے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ، جو صریح طور پر جھوٹے اور بدنیتی کے عزائم پر چلائے جاتے ہیں۔









