پاکستان کا جذبہ خیرسگالی: 198 بھارتی ماہی گیروں رہا
پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر ماہی گیری کرنے والے ماہی گیروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
پاکستان نے 198 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر دیا ہے جنہیں پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر ماہی گیری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، اس کا مقصد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہی گیروں کو لاہور میں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔ ماہی گیروں کو جمعرات کی شام کراچی کی ملیر جیل سے رہا کر کے ٹرین کے ذریعے لاہور لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی زمان پارک میں واپسی، عدالتی حکم پر 106 پولیس اہلکار سیکورٹی پر تعینات
کور کمانڈر ہاؤس میں آتشزدگی: تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل
ہندوستانی حکام کی جانب سے ماہی گیروں کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہائی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے، رہائی کے لیے مقرر 200 ماہی گیروں میں سے دو کی رہائی سے قبل بیماری کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔
انتقال کرنے والے ماہی گیروں کی شناخت محمد ذوالفقار اور سوما دیوا کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی میتیں ایدھی فاؤنڈیشن کے مردہ خانے میں رکھی گئی ہیں کیونکہ انہیں بھارت واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ نذیر تنیو نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی ماہی گیروں کے قیدیوں کی پہلی کھیپ کو رہا کر دیا گیا ہے، مزید قیدیوں کو جون اور جولائی میں رہا کیا جائے گا۔
پاکستان کے اس انسانی اقدام کا ہندوستانی اور پاکستانی حکام دونوں نے خیرمقدم کیا ہے، جنہیں امید ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔









