صدر کا عمران خان پر 9مئی کے واقعات کی مذمت پر زور، مذاکرات کے خواہشمند

شفاف انکوائری کرکے توڑ پھوڑ کروانے والوں کو سزا دی جائے، الیکشن کروائیں اس سے پہلے کچھ بات چیت کرلیں ملک خراب ہو رہا ہے، صدر مملکت عارف علوی،مولانا فضل الرحمان کی عمران خان سے مذاکرات کی مخالفت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ 

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ ان کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے، شفاف انکوائری کرکے توڑ پھوڑکرنے والوں کو سزا دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

ضمانت کے باوجود کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہوں، عمران خان

سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت 23 مئی کو مقرر کردی

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک  میں میزبان حامد میر کو انٹرویو  میں  صدر مملکت نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مگر کارروائی میں انسانی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور مار پیٹ نہیں ہونی چاہیے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے۔ انسانی حقوق سے متعلق دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے۔

 صدر مملکت نےمزیدکہاکہ  میں چاہتا ہوں کہ الیکشن جلدی ہوں، کوئی اور آئے اور مجھے فارغ کریں۔ الیکشن کروائیں اس سے پہلے کچھ بات چیت کرلیں ملک خراب ہو رہا ہے۔

صدر عارف علوی نے بتایا کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کی بحیثیت آرمی چیف تقرری کی مخالفت نہیں کی تھی، عمران خان نے کہا تھا کہ جنرل باجوہ کو کہہ دیں جس کو بھی ادارہ آرمی چیف بنائے گا عمران اسے قبول کرے گا، عمران خان طے کرچکے تھے کہ انہیں آرمی چیف تقرری پر کوئی اعتراض نہیں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ آرمی ایکٹ پر مقدمات سے متعلق سیاستدانوں کو غور کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی ماضی میں حکومت نے بہترین کام کیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں ختم کیں۔ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ نے بھی آرمی ایکٹ کے کچھ فیصلے ختم کیے۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بہت نقصان ہوا۔ آصف زرداری کے پاکستان کھپے کے نعرے کے بعد مسئلہ حل ہوا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج میری ہے، جمہوری قوتیں میری، عوام میرے ہیں میں ان کے ساتھ ہوں، احتجاج کرنا ہے تو قانون کے دائرہ میں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اس کے باوجود وہ قانون کے درمیان رہ رہے ہیں۔صدر علوی نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے لوگ پُرامن رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ختم نہیں کرسکتے، غصے میں ہوں تو خراب آئیڈیاز جنم لیتے ہیں۔ سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ ایمرجنسی کوئی آپشن نہیں یہ اچھی بات ہے، جہاں ادارے ناکام ہوتے ہیں وہاں قوم تباہ ہوجاتی ہے، افغانستان میں بھی اور کوئی بات نہیں ادارے تباہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اس پر خیال کرنا چاہیے۔ سنا ہے کہ زیر حراست کچھ بچیوں کو مارا پیٹا بھی گیا ہے، قانونی کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ مارا پیٹا جائے، کارروائی کا مطلب ہے قانون کے حوالے کریں عدالت میں پیش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ بالادستی کی بات کرتی ہے ،سو ممبران پارلیمنٹ کے وہاں ہیں نہیں، قومی اسمبلی بہت ساری باتیں کرتی ہے کوئی سنتا ہی نہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ کے ججز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر مل کر فیصلے کرتے تو قوم کو ڈائریکشن مل جاتی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات پر مجھے تکلیف ہوئی، میں واحد صدر ہوں جو ہر شہید کے گھر فون کرتا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کن لوگوں نے یہ کیا اور کروایا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شفاف انکوائری کرکے توڑ پھوڑ کروانے والوں کو سزا دی جائے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ الیکشن جلدی ہوں، کوئی اور آئے اور مجھے فارغ کریں۔ الیکشن کروائیں اس سے پہلے کچھ بات چیت کرلیں ملک خراب ہو رہا ہے۔

دریں اثنا پی ڈ ی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان سے مذاکرات کی مخالف کردی۔گزشتہ رو زپریس کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کو رعایت دینے کے لیے آئین و قانون کو مذاق بنایا جا رہا ہے، ذاتی طور پر عمران خان سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آج بھی مکمل سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے، عمران خان کو ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انجیکٹ کیا گیا۔

متعلقہ تحاریر