عمران خان کے پاس دو آپشنز: نواز شریف بنیں گے یا بھٹو

حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے چیئرمین تحریک انصاف کو 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں دو آپشنز دے دیئے۔

9 مئی کے واقعات کے تناظر میں حکومت کے اعلیٰ منصب داروں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو دو آپشنز دے دیئے ہیں یا تو وہ ملک چھوڑ جائیں دوسری صورت میں انہیں ملٹری کورٹس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بنتے ہیں یا بھٹو بنتے ہیں کیونکہ آپشنز بہت کھلے ہیں۔

نیوز 360 کو ذرائع نے بتایا ہے کہ دو روز قبل حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے لاہور میں زمان پارک میں ان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں انہوں نے حکومت کے کی جانب سے عمران خان کو دو آپشنز دیئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

چوہدری شجاعت حسین نے پی ٹی آئی پر پابندی کا مطالبہ کردیا

جہانگیر ترین نے 9 مئی کو جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ کی ذمہ دار پی ٹی آئی پر ڈال دی

چیئرمین تحریک انصاف کے پاس دو آپشنز

حکومتی عہدیداروں نے ملاقات کے دوران دو آپشنز عمران خان کے سامنے رکھے۔

(1): پہلا آپشن یہ تھا اگر وہ ملک میں رہیں تو انہیں 9 مئی کے واقعات کے منصوبہ سازوں کے طور پر لیا جائے گا۔ اور ان پر ملٹری کورٹس میں مقدمات چلیں گے۔ اور اگر ثابت ہو گیا وہ گلٹی ہیں تو انہیں سزا کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

(2): دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ وقت طور پر اپنی سیاست کی کتاب کو بند کریں اور وقتی طور پر جلا وطنی اختیار کرلیں اور برطانیہ میں اپنے بیٹوں کے پاس چلے جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو حکومت کے پاس پہلا آپشن کھلا ہے۔

تبصرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے یہ ثابت کرنا قطعی مشکل نہیں ہوگا کہ عمران خان 9 مئی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ اور انہیں سزا ہو جائے گی۔ اس لیے بہتر کہ وہ سیکنڈ آپشن قبول کرلیں اور وقتی طور پر جلاوطنی میں  چلے جائیں۔

ملٹری کورٹس کے سزاؤں کی شرح

واضح رہے کہ حکومت نے سانحہ اے پی ایس کے بعد سے ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا تھا۔

اس وقت سے لے کر اب تک ان کی سزاؤں کی شرح نیوز 360 کو ملنے والے ڈیٹا کے مطابق 97 فیصد رہی ہے۔ صرف تین فیصد لوگ ملٹری کورٹس سے رعایت پاسکے ہیں۔

ایک ڈیٹا کے مطابق ملٹری کورٹس سے اب تک سزا پانے والے 50 سے 55 لوگوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

عمران خان ملک میں رہیں گے تو انہیں ملٹری کورٹس کے ٹرائل سے گزرنا پڑا گا دوسری صورت میں وہ ملک سے باہر جاسکتے ہیں ، اور حالات کی درستگی کی صورت میں وہ دوبارہ ملک میں واپس آسکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر