خواجہ سرا خود کو مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے، وفاقی شرعی عدالت

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کر سکتا، اسلام خواجہ سراؤں کو تمام بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔

اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے خواجہ سرا ایکٹ 2018 کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کراسکتے۔

وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے سیکشن 2N(3) سیکشن 2F، سیکشن 3 اور سیکشن 7 کو خلاف شریعت قرار دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں  کہا ہے کہ مذکورہ بالا تمام سیکشنز کا تعلق کسی شخص کی حیاتیاتی جنس سے ہے۔ احساسات کی بنیاد پر انسان کی جنس کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

اے ٹی سی نے تین مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی

بنوں روڈ پر پولیس وین پر حملہ: ایک شخص جاں بحق ، 22 افراد زخمی

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کا تصور اور اس حوالے سے احکامات موجود ہیں۔ اسلام خواجہ سراؤں کو تمام بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ کا سیکشن 2 شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ خواجہ سرا تمام بنیادی حقوق کے مستحق ہیں جو آئین میں درج ہیں۔

وفاقی شریعی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کوئی شخص یا خواجہ سرا اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کرا سکتا۔ ٹرانس جینڈر جنس کا تعین جسمانی اثرات کی برتری سے کیا جائے گا۔ ایک آدمی جس پر مردانہ اثرات کا غلبہ ہو وہ مرد خواجہ سرا ہو گا۔ شریعت کسی شخص کو صنفی تفویض سے گزرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 7 کے تحت، کوئی بھی وصیت کی جنس کا تعین کرکے وصیت کا وارث ہوسکتا ہے۔ وراثت جنس کے مطابق ہو سکتی ہے۔ کسی مرد یا عورت کے لیے یہ غیر قانونی ہوگا کہ وہ اپنی حیاتیاتی جنس سے باہر خود کو ٹرانس جینڈر کہے۔

شرعی عدالت نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت بنائے گئے قوانین کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دفعات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر