چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے پاس کیا آپشنز بچے ہیں؟

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے پاس ایک آخری آپشن یہ رہ گیا ہے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور کوئی ریلیف لے لیں۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایک منجھے ہوئے کپتان اور دنیا کے تیز ترین باؤلر رہ چکے ہیں ، مخالف ٹیم کی بیٹنگ اور باؤلنگ کو دیکھتے ہوئے کس وقت کیا فیصلہ لینا بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اپنی تقریروں میں اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں ، تاہم 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد کپتان کے پاس چوائسز بہت کم رہ گئی ہیں ، آخری آپشن عمران خان کے پاس یہ ہے کہ وہ عدالتوں سے کوئی ریلیف حاصل کرلیں۔

عمران خان کے لیے چوائسز کیا بچی ہیں؟

چیئرمین تحریک انصاف کے پاس ایک چوائس یہ ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں ، اور مسئلہ کا کوئی مستقل حل نکالیں ، مگر صورتحال یہ ہے کہ حکومت اب عمران خان کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس لیے یہ آپشن ختم ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

زمان پارک میں متوقع سرچ آپریشن: حکومت اور عمران خان کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار

عمران خان نے 2014 سے 9 مئی 2023 تک جو کچھ کیا اس کے اثرات کا سامنا بھی کریں، شیری رحمان

پی ٹی آئی کے سربراہ کے لیے یہ آپشن بھی ختم ہو گیا کہ وہ ایک مرتبہ پھر سے کوئی بڑا فیصلہ کرتے ہوئے میدان میں آجائیں کیونکہ تحریک انصاف کی تمام بڑی لیڈرشپ یا تو جیل میں یا پھر پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جارہی ہے یا چھوڑ کر جانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس لیے یہ آپشن بھی ختم ہو گیا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے پاس ایک آخری آپشن یہ رہ گیا ہے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور کوئی ریلیف لے لیں ، یا پھر بیرونی طاقتوں کے ذریعے اپنے لیے کوئی راہموار کرلیں۔ بیرونی امداد آتی ہے یا نہیں آتی یہ فیصلہ وقت کرے گا ، وہ کہتے ہیں ناکہ جب اندھیرا بڑھ جاتا ہے تو سایہ بھی اپنا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں عدالتوں کی اپنی ساکھ کی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ 14 مئی کو انتخابات کرانے ہیں ، مگر 14 مئی گزر گئی اور انتخابات نہ حکومت نے کرانے تھے نہ کرائے۔

لاہور ہائی  کورٹ آئی جی پنجاب کو مسلسل حکم دے رہی ہے کہ اینکر پرسن عمران ریاض خان کو بازیاب کرا کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، مگر آئی جی صاحب ہر روز کوئی نیا بہانہ بنا کر عدالت سے نکل جاتے ہیں اور عدالت نئی تاریخ دے دیتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ ملیکہ بخاری ، شیریں مزاری اور فلک ناز کو چھوڑنے کا حکم دیتی ہے ، مگر اسلام آباد پولیس ایک مقدمے میں چھوڑ کر دوسرے میں گرفتار کرلیتی ہے۔

ہاں تو یہ ہے عدالتی  ساکھ اور یہ عدالتی رٹ۔

متعلقہ تحاریر