آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن میں شمولیت پر چیف جسٹس، جسٹس عیسیٰ کیخلاف کارروائی کرسکتے ہیں؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری کے بغیر بنے گا اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے جوڈیشل کمیشن نے آڈیو لیکس سے متعلق کارروائی شروع کردی ہے ، جبکہ کمیشن نے آڈیو لیکس سے متعلق کارروائی پبلک کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے ، تاہم  قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی جج چیف جسٹس کی منظوری کے بغیر کسی کمیشن کا رکن نہیں بنا سکتا ، اس لیے وہ کمیشن جو آڈیو لیکس سے متعلق تحقیقات کررہا ہے اس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں قائم کیے گئے تین رکنی جوڈیشل کمیشن نے آڈیو لیکس سے متعلق اپنی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے کمیشن کے باقی دو ارکان میں ایک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور دوسری اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق شامل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے خط و کتابت کے لیے وفاقی حکومت کو نئی سم کارڈ ، موبائل فونز فراہم کرنے کی ہدایت دے دی اور اخبارات میں اشتہارات شائع کرنے کا بھی کہہ دیا ہے۔

آج کی کارروائی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن نے اپنا آرڈر لکھوانا شروع کیا۔

اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کے ایکٹ کے تحت مذکورہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمیشن آڈیو لیکس سے متعلق حقائق کی چھان بین کرے گا۔

جوڈیشل کمیشن نے تمام آڈیوز کا ٹرانسکرپٹ حکومت کو فراہم کرنے کا پابند کیا ہے۔ ٹرانسکرپٹ لفظ با لفظ درست ہونا چاہیے۔ کسی قسم کی غلطی ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہو گی۔

کمیشن نے وفاقی حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ جلد از جلد تمام تفصیلات فراہم کرے تاکہ کمیشن اپنی کارروائی کا آغاز کرسکے۔

کارروائی کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا پروسیڈنگ کو پبلک کیا جائے گا ، کیا وفاقی حکومت کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن جو کرنا چاہتا ہےکرے ، کمیشن اپنے معاملات میں آزاد ہے۔

اس مکالمے کے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کی تمام تر کارروائی کو اوپن رکھا جائے گا۔

کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا چونکہ آڈیو لیکس کے کچھ کرداروں کی عمریں  بہت زیادہ ہیں اس لیے ان کی سہولت کے لیے پروسیڈنگ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کی جائے گی ، تاہم اگر ضرورت پڑی تو لاہور بھی جایا جاسکتا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے وفاقی حکومت کو وہ مواد جس کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا گیا ہے بدھ کے روز تک وہ تمام مواد (تفصیلات) کمیشن کو فراہم کردی جائیں۔

جوڈیشل کمیشن نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ اخبارات میں دے کہ اگر اس حوالے سے کسی کے پاس کوئی ثبوت یا مواد ہے تو وہ کمیشن سے رابطہ کرسکتا ہے۔ مواد دینے والے کو اپنی تفصیلات بھی دینا ہوں گی۔ کوئی مشترکہ درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیوز لیکس کی تحقیقات سے متعلق تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا ، جس کی سربراہی جسٹس فائز عیسی ٰ کو سونپی گئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کے ججز اور سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیکس سے متعلق اپنی رپورٹ 30 دنوں میں وفاقی حکومت کو پیش کرے گی۔

کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس کی متنازع آڈیو لیکس میڈیا میں چل رہی ہیں جوکہ خدشات کو جنم دیتی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ججوں کے بارے میں گفتگو ان کی غیرجانبداری کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔ اس پر وفاقی حکومت نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

کیبنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ عدلیہ آئین کے تحت اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔ عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچے تو معاشرے کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر