پی ٹی آئی کے ایم این اے عطا اللہ اور ٹکٹ ہولڈر مہر شرافت علی کا پارٹی نہ چھوڑنے کا عزم

کراچی سے منتخب رکن قومی اسمبلی عطا اللہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ 9 مئی کو ہمارے کارکنوں سے غلطی ہوئی، انہیں تنبیہ کرکے رہا کردیا جائے، غلطی پر سزا نہیں دی جاتی، انہوں نے مستعفی ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ مہر شرافت علی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہیں جلد سرپرائز ملے گا

کراچی سے تحریک انصاف کے منتخب رکن قومی اسمبلی  عطا اللہ ایڈوکیٹ نے پارٹی سے علیحدگی کے امکانات کو مسترد کردیا جبکہ اوکاڑہ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر مہر شرافت علی نے بھی عمران خان سے راہیں جدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

کراچی سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ ایڈووکیٹ نے پارٹی چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  شہداء کی بے حرمتی پر افسوس ہوا ۔ یہ صرف ایک غلطی تھی ،ریاست انہیں سزا  دینے کے بجائے  معاف کردے ۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کے قانونی مشیر بابر اعوان کی اچانک لندن روانگی، حکومتی صفوں میں بےچینی

عطاء اللہ ایڈووکیٹ نے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ غلطی پر بدلہ نہیں لیا جاتا، والدین اپنی اولاد کی غلطیاں معاف کردیتے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ "ٹھیک ہے” غلطی ہوئی ہے مگر انہی سزا نہیں دیں بلکہ صرف تنبیہ دیں اور چھوڑ دیں ۔

انہوں نے پارٹی سے استعفی دینے والے رہنماؤں پر  تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ چار سال اقتدار کے مزے لیں اور بعد میں معافی مانگ پر پاک صاف ہوجائیں ۔ عمران خان نے کبھی اداروں کے خلاف بات نہیں کی ۔

کراچی سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ  میرے حلقے سے بھی کسی نے کچھ غیرقانونی اقدام کیا ہے تو میں بھی اس کا ذمہ دار ہوں مگر ہمیں  عمران خان کی جانب سے کبھی ملی  اداروں کے خلاف بولنے کی ہدایت نہیں ملی ۔

عطا اللہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے پر جانے والے ارکان پر لازم ہے کہ وہ اپنی کارکنوں کو بھی رہائی دلوائیں  ،ایسا نہیں کہ آپ معافی مانگ کر سکون سے اپنے گھروں میں چلے جائیں اور کارکنوں کو  مشکلات میں پوچھیں بھی نہیں ۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ ہم نے کبھی ریاست کے خلاف، کبھی افواج پاکستان کے خلاف بات نہیں کی  اگر کبھی کی بھی ہوئی تو جذبات میں آکر کچھ بول دیا ہوگا مگر ہم لوگ  دل سے محب وطن ہیں ۔دل میں نفرت نہیں ہے ۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے اوکاڑہ سے ٹکٹ ہولڈرمہرشرافت علی نے بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ مشکل وقت نہ آتا تو کیسے پتہ چلتا کون ہاتھ پکڑ کے چل رہا ہے۔

مہرشرافت علی نے کہا کہ مشکل وقت نہ آتا تو کیسے پتہ چلتا کون ہاتھ پکڑ کے چل رہا ہے اور کون چھڑوا کر،کچھ ساتھیوں کے جانے پر تکلیف اور دکھ ضرور ہے لیکن یہ مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب جلد قوم کو سرپرائز دیں گے ۔

پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرنے کہا کہ جب لیڈر پر سکون اور پر اعتماد ہے تو آپ نے بھی بالکل گھبرانا نہیں ہے دو قدم پیچھے ہٹنے کا مطلب لمبی جمپ ہوتا ہے جو منزل سے مزید قریب کرتی ہے انشااللہ حق اور سچ کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

متعلقہ تحاریر