وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سخت و کڑے سوالات پر صحافیوں پر برہم ہوگئے

اسلامک فنانس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہونے تو اسحاق ڈار کی ناکامی قرار دیا تو وہ برہم ہوئے اور کہا کہ تنقید نگار ملک کے دیوالیہ ہونے کا انتظار کررہے ہیں مگر پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہوا ،صحافی بھی حوصلہ و صبر رکھیں

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر اسحاق ڈار نے صحافیوں کے سخت سوالات پر برہم ہوتے ہوئے کہا کہ کہا کہ تنقید نگار پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا انتظار کررہے ہیں مگر وطن عزیز ڈیفالٹ نہیں ہوا ۔

اسلامک فنانس کانفرنس میں صحافیوں کی جانب سے کڑے اور سخت سوالات پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید نگار ملک کے دیوالیہ ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسلامی فنانسنگ سے غربت پر قابو پائیں گے، سینیٹر اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تنقید نگار انتظار کر رہے ہیں لیکن کئی ماہ سے پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہوا۔میڈیا بھی تسلی رکھے۔پاکستان  تمام غیر ملکی ادائیگیاں بروقت ادا کرے گا ۔

صحافی نے سوال کیا کہ اسحاق ڈار صاحب کیا آئی ایم ایف سے معائدہ نہ ہونا آپ کی ناکامی ہے؟ اس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ  کیا پاکستان ڈیفالٹ ہو گیا ہے؟،  ہم نے ہر انٹرنیشنل پیمنٹ کی ہے۔

صحافی نے پھر سوال کیا کہ  آپ کو پہلی بار مشکل معاشی حالات ملے اور آپ معیشت سنبھال نہیں پارہے۔ اسحاق ڈار نےکہا کہ  آپ نے جو فیصلہ دینا ہے دے دیں، میں بعد میں دیکھ لوں گا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق  نے  اسلامک کیپٹل مارکیٹس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ  معیشت مستحکم بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اسلامک فنانس غربت میں کمی میں معاون ہوسکتی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلامک فنانس پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے،اس  کے فروغ کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اسلامک فنانس 4 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اسلامک فنانس 4 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ سال  2026 میں اسلامک فنانس عالمی معیشت میں  59 ہزار ارب ڈالر کو پہنچ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

بجٹ 2024: وزیراعظم نے عوام کو ریلیف کیلئے 7 کمیٹیاں تشکیل دے دی

ان کا کہنا تھاکہ  گورنر اسٹیٹ بینک نے اسلامک فنانس کے فروغ کے لیے بڑی محنت کی ہے۔اسٹیٹ بینک پاکستان میں اسلامک فنانس کے لیے فروغ کے لیےبھرپور کوشش کر رہا ہے۔

اسحاق  ڈار نے کہا کہ   دنیا میں اسلامک فنانسنگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، نان مسلم ممالک میں اسلامک فنانسنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے،   اس سے حکومتی مالیاتی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔

  اسحاق ڈار نےکہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق 16 ہزار سے زائد ادارے اسلامک فنانسنگ کیلئے ہیں،  مجموعی طور پر 570 اسلامک بنک اور اسلامک فنانسنگ کی گروتھ 17 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ    پاکستان میں 2022 میں اسلامک فنانسنگ کی گروتھ 29 فیصد ریکارڈ ہوئی، ملک میں  6 اسلامک بینک اور 16 بینکوں میں اسلامک بنکنگ کی فرنچائزز ہیں ۔

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر  اسحاق ڈار نے  بتایا کہ  ملک میں اسلامی  فنانسنگ اثاثوں کا حجم 7.2 ٹریلین روپے ہے۔  پاکستان میں اسلامک بنکنگ میں ڈپازٹ کا حجم 5.2 ٹریلین روپے ہے۔

تقریب سے چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید  نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ  وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامک کیپٹل مارکیٹ کو فروغ دینے کا ہدف ہے، کئی اداروں نے اسلامی بینکاری پر منتقلی کیلئے رابطہ کیا ۔ جلد اسلامک فنانس پروڈکٹس کے فروغ کیلئے خصوصی ونڈو قائم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار؛ فصیح منگی  نے ڈیفالٹ کے خدشات ظاہر کردیئے

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے  خطاب میں کہا کہ  دنیا میں اسلامی کیپٹل مارکیٹ کے اثاثوں کا حجم 3 ٹریلین ڈالر ہے، بین الاقوامی روائتی مارکیٹ میں اسلامک کیپٹل مارکیٹ کا حصہ 31 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان میں اسلامی بینکوں کے اثاثوں میں سالانہ 24 فیصد اضافہ ہورہا ہے، روائتی بینکنگ میں اسلامی بینکنگ کا شیئر 20 فیصد ہے، ریگولیٹری فریم ورک، تعلیم اور شعور کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ  حکومت نے 2027 تک سود سے پاک معیشت کیلئے اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی ہے۔ اسلامک کیپٹل مارکیٹ کے فروغ میں اسکوک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر مملکت اور چیئرمین اصلاحات کمیشن اشفاق تولہ  نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ  بین الاقوامی اسلامی کیپٹل مارکیٹ کا حجم 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، اس میں 30 فیصد حصہ سکوک کا ہے۔

چیئرمین اصلاحات کمیشن اشفاق تولہ  نے  کہا کہ اسلامک کیپٹل مارکیٹ کے فروغ کیلئے بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اس حوالے سے مختصر  مدت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

متعلقہ تحاریر