وزیر دفاع نے عمران خان کو پاکستان کا نریندر مودی سے بڑا دشمن قرار دے دیا
خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ وہ ایسا دشمن ہے جو ہماری صفوں میں موجود ہے مگر لوگ اس کو پہچان نہیں رہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے عمران خان کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا ، کہتے ہیں یہ وہ دشمن ہے جو ہماری صفوں میں موجود ہے اور لوگ اس کو پہچان نہیں رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کا عمران خان کو بڑا دشمن قرار دینا کسی بھی صورت جائز نہیں کیوں کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں ، جن کے پاس ہر طرح کے قومی راز ہوتے ہیں۔
گذشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام "کیپیٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ آپ کا جو بیرونی دشمن ہے اس کی شناخت ہے ، یہ جو اندر سے ہمارا دشمن پیدا ہوا ہے ، اس کی شناخت ابھی بھی لوگ نہیں کرپارہے۔ یہ ہمارے ظاہری دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
190ملین پاؤنڈ اسکینڈل؛ سابق وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے جواب جمع کروادیا
آڈیو لیکس؛ پارلیمانی کمیٹی کا ثاقب نثار کو بیٹے کے ہمراہ طلبی کا نوٹس، بینک ریکارڈ بھی طلب
اس موقع پر اینکر پرسن حامد میر نے لقمہ دیا کہ عمران خان مودی سے زیادہ خطرناک ہے؟ جس پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بالکل زیادہ خطرناک ہے کیونکہ لوگ اس کی شناخت نہیں کرپا رہے، اس کی اصلیت کا پتا نہیں چل رہا۔ وہ ہماری صفوں میں موجود ہے۔ جو دشمن آپ کی صفوں میں موجود ہوگا وہ زیادہ خطرناک ہوگا یا جو سامنے آپ کے کھڑا ہے۔ اس کا آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے۔
Unbelievable. Defense Minister of Pakistan @KhawajaMAsif declared @ImranKhanPTI a bigger threat to the security of Pakistan than Indian Prime Minsiter @narendramodi. pic.twitter.com/XzEnlhYRc6
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) June 1, 2023
عمران خان کو سیکورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو دشمن ہمارے اندر سے پیدا ہو گئے ہیں وہ ہماری سیکورٹی کو تھریٹ کررہے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے زور دے کر کہا کہ 9 مئی کا دن اس بات کی شہادت ہے کہ وہ بغاوت تھی۔
خواجہ محمد آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کا سابق وزیراعظم کو سیکورٹی تھریٹ قرار دینا کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ بطور وزیراعظم عمران خان نے تمام ڈیفنس سے متعلق بریفنگ بھی لی ہوں گی ، خفیہ کمانڈ اتھارٹیز کی بریفنگ بھی لی ہو گی ، انہوں نے کتنے ہی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس بطور وزیراعظم ہیڈ کیے ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے اگر مودی سے بڑے دشمن کو یہ سارے راز پتا ہیں تو یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان اس ریاست کے لیے بہت ہی خطرناک ہوگئے ہیں۔









