آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا، شہباز رانا کا دعویٰ

انگریزی روزنامہ  ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی شہباز رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت کی 6 ارب ڈالر کے نئے قرض کی درخواست  مسترد کردی جس سے حکومت سخت پریشانی کا شکار ہے جبکہ وزارت خزانہ کے پاس پلان بی بھی موجود نہیں ہے

وفاقی حکومت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے نئے قرض کی درخواست مسترد ہونے پر پریشانی میں مبتلا ہوگئی جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے لیے کوئی اور آپشن نہیں ہے ۔

انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی شہباز رانا نے دعویٰ کیا ہےکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے حکومت کی نئے قرض کی درخواست مسترد کردی ہے جس سے حکومت پریشان ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام لینے کی تیاریاں مکمل، ڈرافٹ تیار

شہباز رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ڈاکٹر عائشہ پاشا نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس واپس جانا ہی پاکستان کا واحد آپشن ہے۔

صحافی نے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع اپنی اسٹوری میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک کابینہ رکن نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے نئے قرض کی درخواست مسترد کردی ہے۔

ایکسپریس ٹی وی چینل کے پروگرام اینکر نے کہا ہے کہ وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے ۔

صحافی شہباز رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر مملکت نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر کوئی آپشن موجود نہیں ہے جبکہ  کوئی پلان بی بھی تیار نہیں کیا گیا ہے ۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع اسٹوری کے مطابق ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے نئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مطابق 6 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی درخواست کی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے

ایف بی آر نے گزشتہ ماہ مئی میں 605 ارب روپے کے ٹیکسز وصول کیے

شہباز رانا کے مطابق انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے بعد حکومت کے پاس موجودہ پروگرام کی بحالی کے علاوہ دیگر کوئی آپشن موجود نہیں ہیں ۔

شہباز رانا نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے نہ آنے پر عائشہ غوث پاشا نے پلان بی کے عدم دستیابی کا انکشاف کیا جوکہ اسحاق ڈار کے بیان سے متصادم ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی شہباز رانا نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، ورلڈ بینک اور جنیوا کانفرنس سے ساڑھے 4 ارب ڈالر کے انتظامات کیے۔

متعلقہ تحاریر