یونان کشتی حادثہ: قومی یوم سوگ کا اعلامیہ سنگین غلطی کے بعد تبدیل

400 پاکستانی ایک ساتھ انسانی اسمگلرز کے ہتھے چڑھ گئے ، ایف آئی اےسوتی کیوں رہی؟ یونان کے شہری اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئے، حکومت پاکستان میڈیا کے شورمچانے پر جاگی۔

یونان کے قریب بحیرہ روم میں غیرقانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 300 سے زائد پاکستانیوں کی اموات  پر وزیراعظم کی ہدایت پرآج قومی یوم سوگ منایاجارہا ہے،بڑے قومی سانحے پر ملک بھر میں سرکاری عمارتوں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

تاہم یوم سوگ کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیہ سنگین غلطی کے بعد تبدیل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بحیرہ روم کے گہرے پانیوں میں کشتی حادثہ، 300 پاکستانی تارکین وطن جان سے گئے

اٹلی کشی حادثہ: سہانے مستقبل کے متلاشی 28 پاکستانی موت کا شکار، متعدد لاپتہ

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم پاکستان  نے یونان کے ساحل پرتارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں پاکستانیوں کی اموات پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئےخوشی کے ساتھ یہ ہدایت جاری کررہے  ہیں کہ پیر 19 جون کو قومی یوم سوگ منایا جائےگا جبکہ قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

قومی یوم سوگ  کے اعلامیے میں اس سنگین غلطی پر حکومت کو کڑی تنقید کاسا منا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی میں ایسے کون سے مسخرے بیٹھے ہیں جو وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اس قسم کی سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

بعدازاں وزیراعظم آفس نے یوم سوگ کا نیا اعلامیہ جاری کردیا۔ جس کے مطابق  وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے4 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بنا دی ہے، نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کمیٹی کے چیئرمین مقرر کیےگئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری افریقی امور جاوید احمد عمرانی ، آزادجموں وکشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیر احمد اور  وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایف آئی اے فیصل نصیر بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

کمیٹی یونان میں کشتی ڈوبنے کے تمام حقائق جمع کرےگی، انسانی اسمگلنگ کے ہر پہلو کی تحقیق ہوگی اور ذمہ داروں کا تعین کیاجائےگا۔

دوسری جانب یونان میں تارکین وطن کشتی ڈوبنے کےنتیجے میں 300 سےزائد پاکستانیوں کی اموات کےبعد حکومت اور ایف آئی اے حرکت میں آگئےاور انسانی اسمگلرز کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع  کردیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر میں کھوئی رٹہ پولیس نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث10 ملزمان کو گرفتار کرکے قتل بالسبب اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔آزاد کشمیر پولیس کے مطابق گرفتارایجنٹس میں سے ایک کا بیٹا بھی کشتی حادثے میں جاں بحق ہوا ہے۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے کراچی ایئرپورٹ  پر کارروائی کرتے  ہوئےپاکستانی نوجوانوں کو یورپ بھجوانے میں ملوث انسانی اسمگلرساجد محمود کو آذربائیجان فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار کرلیا۔ملزم ساجد پر متعدد نوجوانوں کو لیبیا بھجوانے کا الزام ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اورایف  آئی اے کو300سے زائد پاکستانیوں کی اموات کے بعد ہی کیوں انسانی اسمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا خیال آیا ہے؟ایسا کیسے ممکن ہے کہ 400پاکستانی انسانی اسمگلرز کے ہتھے چڑھ گئے  اور ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی؟ناقدین نے سوال کیا ہے کہ سانپ گزرنے  کے بعد لکیر پیٹنے والے ایف آئی اے حکام کیخلاف کب کارروائی ہوگی؟

دریں اثنا یونان کے شہری کشتی حادثے کے بعداپنی حکومت کیخلاف  سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔تاہم حکومت پاکستان کئی روز تک سوتی رہی اور میڈیا کی جانب سے شور مچانے پر گہری نیند سے بیدار ہوئی۔

یونان کے دارالحکومت ایتھنز سمیت مختلف شہروں میں عوام نے تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر سخت احتجاج کیا اور پناہ گزینوں کو بچانے کے ناکافی اقدامات پر حکام کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا ہے۔

احتجاجی مظاہرین کی جانب سے مختلف مقامات پر پولیس پر پتھراؤ کے واقعات بھی رونما ہوئے جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

متعلقہ تحاریر