یونان میں سمندر برد کشتی میں 350 پاکستانیوں کی تصدیق؛ 82 لاشوں کی شناخت کا عمل جاری

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے مطابق یونان میں حادثے کا شکار کشتی میں 350 پاکستانی شہری بھی موجود تھے جس میں سے 12 کے زندہ بچ جانے کی تصدیق ہوئی جبکہ 82 لاشیں موصول ہوگئیں ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔انہوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نےتصدیق کی ہے کہ یونان میں سمندر برد ہونے والی کشتی میں 350 پاکستانی شہری سوار تھے جبکہ زندہ بچ جانے والے 12 پاکستانیوں کی شناخت ہوچکی ہے ۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ یونان کے ساحل پر سمندر برد ہونے والی کشتی میں 104 افراد زندہ بچے ہیں جس میں 12 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

 کشتی حادثے میں یونانی کوسٹ گارڈ کی ظالمانہ غلطی؛ حکومت مخالف مظاہروں میں شدت

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے جمعے کے روز بتایا کہ یونان کے ساحل پر ڈوبنے والے تارکین وطن کے جہاز میں 350 پاکستانی شہری سوار تھے۔281 خاندانوں نے اس کی تصدیق کی ہے ۔

ایوان زیریں  میں  خطاب کے دوران وزیر داخلہ نے بتایا کہ  کشتی حادثے میں جاں بحق 82 افراد کی میتیں پاکستان پہنچ چکی ہیں ۔انہوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشے کا اظہار بھی کیا ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جہاز پر کل 700 افراد میں سے نصف پاکستانی تھے جبکہ  گنجائش صرف 400 افراد کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے  کسی بھی واقعے میں پہلی بار اتنی ہلاکتیں ہوئیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 281 خاندانوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے جن کے رشتےدار بد قسمت کشتی پر سوار تھے ۔انہوں نے بتایا اب تک 193 افراد کے ڈی این اے نمونے لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یونان کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟ گارڈین اخبار کے ہوشربا انکشافات

رانا ثنا اللہ کے مطابق کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے 104 افراد میں 12 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جن کی شناخت ہوگئی ہے  جبکہ تحقیقاتی کمیٹی اس حوالے سے  کام بھی کررہی ہے ۔

انہوں نے ایوان زیریں کو بتایا سانحے سے متعلق آہستہ آہستہ معلومات سامنے آرہی ہیں۔ڈوبنے والی  کشتی میں آزاد کشمیر اور پنجاب کے خاندان اور درجنوں نوجوان اور بچے بھی سوار تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 181 افراد کا تعلق پاکستان اور 28 کا آزاد جموں و کشمیر سے ہے جبکہ 201 خاندانوں سے ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کئے۔

ومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران ثناء اللہ نے بتایا کہ پاکستان میں اب تک 281 خاندانوں نے حکومت سے رابطہ کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پیارے اس واقعے میں پھنس گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یونان کشتی حادثہ؛ ایک ایجنٹ گرفتار، تحقیقاتی کمیٹی بھی متحرک ہوگئی

وزیر کے مطابق کشتی حادثے سے تعلق  ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، اور تمام متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کیا گیا ہے، ان کے ڈی این اے کے نمونے اور دیگر ضروری معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔

انہوں نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ تقریباً 99 فیصد افراد جو اب تک یورپ کیلئے روانہ ہوئے ہیں انہوں نے قانونی ذرائع سے کیا  تاہم لیبیا جیسے ممالک سے  وہ غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر