آئی ایم ایف کا حالیہ ڈیل سے قبل پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا فیصلہ
پاکستان میں آئی ایم ایف کی ریذیڈنٹ نمائندہ کی پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی نمائندہ ایسٹر پریز روئز نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے ہیں کہ تاکہ نئے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے سے متعلق حمایت حاصل کی جا سکے۔
آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پریز روئز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا عملہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف کے پروگرام کے باوجود ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.70 فیصد اضافہ
کراچی کی دودھ فروش مافیا نے سرکاری نرخ ہوا میں اڑا دیئے
ایسٹر پریز روئز نے مزید کہا کہ بات چیت کا مقصد قریب آنے والے قومی انتخابات سے قبل ایک نئے آئی ایم ایف کے تعاون یافتہ پروگرام کے تحت کلیدی مقاصد اور پالیسیوں کے لیے ان کی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے۔
ایسٹر پریز روئز کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن کے بعد بننے والی سیاسی حکومت کو ابھی سے پالیسیز سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کے قرض پروگرام کی منظوری آئندہ چند دنوں میں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں دی جانی ہے۔
آئی ایم ایف اور پیپلز پارٹی کی ملاقات
پاکستان میں آئی ایم ایف کی ریذیڈنٹ نمائندہ ایسٹر پریز روئز نے وفاقی وزیر نوید قمر اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا پر مشتمل پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے وسیع تر قومی مفاد میں نئے قرضہ پروگرام کے لیے حمایت کا یقین دلایا اور اسٹینڈ بائی انتظامات پر عمل درآمد پر بھی اتفاق کیا۔
واضح رہے کہ ان ملاقاتوں کے مثبت تناظر کے پیش نظر آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ آنے والے دنوں میں اسٹینڈ بائی انتظام کے نئے معاہدے پر غور کرے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں قومی انتخابات نومبر کے اوائل سے پہلے ہونے والے ہیں۔ 12 جولائی کو، قرض دہندہ کا بورڈ نئے بیل آؤٹ پروگرام کا جائزہ لے گا اور اس پر غور کرے گا، جو کہ نو ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام پر محیط ہے۔









