ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی، وزیراعظم کا بڑا اعلان

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوتے ہیں اس کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ۔ میری دعا ہے کہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیم کو نمبر ون اہمیت دے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج کا دن میرے لیے انتہائی اطمینان کا دن ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہ شعبہ جس کے ذریعے دنیا میں رینگتی ہوئی قومیں اس درجے ترقی پر پہنچیں ہیں، اسی شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے آج مجھے یہاں آنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے اس سفر کا آغاز 2008 میں پنجاب سے شروع کیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان انڈوومنٹ فنڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا جب میں غریب الوطنی کی زندگی گزار رہا تھا تو ایک دن لندن میں میری ملاقات ڈاکٹر امجد ثاقب سے ہوئی ، یہ 2003 ، 2004 کی بات ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے گفتگو میں ایک انڈوومنٹ فنڈ کی بات کی۔ پھر 2008 میں مجھے اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو میرے لیڈر نواز شریف نے پنجاب میں انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کہا اور یوں یہ فنڈ قائم کردیا گیا۔ 2008 میں ہم نے انڈوومنٹ فنڈ کے لیے دو ارب روپے مختص کیے۔ جو بڑھ کر 22 ارب  روپے تک پہنچ گئے۔ اس فنڈ سے 4 لاکھ 50 ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیمی وضائف دیئے گئے۔ ان تعلیمی وضائف سے ہزاروں طالب علم انجینیئرز اور ڈاکٹرز بنے۔ جو قوم کے معمار بن چکے ہیں۔ اس سے خدمت کوئی اور ہونہیں سکتی۔ ہم نے اپنی محدود مالی وسائل کے مطابق اس مرتبہ اس انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 14 ارب روپے رکھے ہیں جو اگلے 4 سالوں تک طالب علموں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے 

پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والا ملک بن گیا، سالانہ 2.4 فیصد اضافہ ریکارڈ

UNHCR نے پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو نقد رقم فراہم کردی

آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ ہے ، ہمیں امید ہے کہ آج ہمارا قرض منظور ہو جائے گا ، مگر میں یہ بات پھر سے دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ اس ملک کے تمام وہ  اسٹیک ہولڈرز جو اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں انہیں آگے آنا ہوگا۔ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے آج لمحہ فکریہ ہے۔ میرے لیے آج لمحہ فکریہ ہے۔ دکھی دل سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک ہم سے کہیں آگے چلے گئے ہیں۔ ہم ٹیکسٹائل کے شعبے میں 80 اور 90 کی دہائی میں ان سے کہیں  آگے تھے۔ 90 کی دہائی میں ہمارے روپے کی قدر ان کی کرنسی سے زیادہ تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم حکومت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی، انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوتے ہیں اس کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ۔ میری دعا ہے کہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیم کو نمبر ون اہمیت دے۔

متعلقہ تحاریر