سویڈن میں ایک مرتبہ پھر قرآن پاک کی بےحرمتی پر پاکستان کا شدید احتجاج، عراق نے سویڈش سفیر کو ملک بدر کردیا

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اسلاموفوبیا واقعات سے دنیا بھر کے 2 ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لانا ہوگا۔

پاکستان نے جمعرات کے روز سویڈن میں ایک مرتبہ پھر سے قرآن پاک کی سرعام بے حرمتی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ، اور اسے اسلاموفوبیا عمل قرار دیا ہے ، جبکہ دوسری جانب عراقی حکومت نے اسٹاک ہوم میں پیش آنے والے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’آزادی اظہار اور احتجاج کی آڑ میں مذہبی منافرت کی سوچی سمجھی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘۔

یہ بھی پڑھیے

سینئر وکیل شعیب شاہین نے ثناء اللہ پر سائفر تحقیقات میں مداخلت کا الزام لگادیا

عام انتخابات: الیکشن کمیشن کیلئے 42.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی

ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی قانون ریاستوں کو واضح طور پر پابند کرتا ہے کہ وہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر مبنی واقعات کی روک تھام کےلیے اقدام اٹھائیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اسلامو فوبیا واقعات قابل مذمت ہیں ، جن سے دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ، اس طرح کے واقعات قانونی اور اخلاقی طور پر قابل مذمت ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے اس طرح کے اسلام مخالف واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کا مطالبہ کیا ہے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کےلیے عالمی سطح پر قوانین بنانے پر زور دیا ہے۔ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جئے۔ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔ مذاہب، عقائد اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

تازہ ترین واقعے کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سے متعلق سویڈش حکام کا آگاہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم توقع کرتے ہیں کہ سویڈش حکام نفرت اور اشتعال انگیزی کی ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔”

دوسری جانب سویڈش حکام کی اجازت سے اسٹاک ہوم میں ایک بدبخت شخص کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر عراق کے وزیر اعظم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سویڈن کے سفیر کو عراق سے نکالنے اور عراقی سفیر کو سویڈن سے واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔

عراقی وزیراعظم کی جانب سے یہ اچانک ردعمل اس وقت سامنے آیا جب قرآن پاک کی بےحرمتی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سویڈش سفارت خانے پر دھاوا بول دیا، کمپاؤنڈ میں گھس کر آگ لگا دی۔

متعلقہ تحاریر