سپریم کورٹ سے ملٹری ٹرائل کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی حکومتی درخواست مسترد

عدالت عظمیٰ کے چھ رکنی بینچ نے ایک روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائلز کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے فل کورٹ بینچ کی تشکیل دینے کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

حکومت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواست کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔

منگل کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

توشہ خانہ کیس: جج کا عمران خان کے وکیل کو آج گواہوں کی فہرست پیش کرنے کا حکم

توشہ خانہ کیس میں عمران خان کا بیان ریکارڈ، اپنے حق میں شواہد پیش کرنے کا اعلان

بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باعث فل کورٹ بینچ کی تشکیل کے لیے ججز دستیاب نہیں ہیں۔

بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کل (منگل کو) سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ایک آزاد ادارہ ہونا چاہیے جو اس بات کا جائزہ لے کہ گرفتاریاں درست بنیادوں پر ہوئیں یا نہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان نے 102 افراد کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادیں جنہیں فوجی ٹرائل کا سامنا ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان 102 کو چھوڑ کر ایک ہی کیس کے دیگر ملزمان کو کیوں رہا کیا گیا؟

جسٹس مظاہر علی نقوی نے پھر ریمارکس دیئے کہ قانون میں پک اینڈ چوز کی اجازت نہیں ہے۔

زیادہ تر ملزمان کو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ہونے والے فسادات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے خود کو 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے الگ کر لیا ہے، تاہم وہ عام شہریوں کے فوجی ٹرائل کی مخالفت کررہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر