حکومت کا سرکاری ملازمین پر آنسو گیس کا استعمال اور گرفتاریاں

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے پلیٹ فارم سے دی جانے والی احتجاج کی کال میں حصہ لینے کے لیے بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین اسلام آباد کے وفاقی سیکریٹریٹ پہنچے تھے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بدھ کی صبح سرکاری ملازمین کا اپنی تنخواہوں میں اضافے کے بنیادی مطالبے کے لیے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں جنہیں منتشر کرنے کے لیے اسلام آباد کی پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے ہیں اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری کا عمل بھی جاری ہے۔ آنسو گیس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔

نیوز 360 کے نامہ نگار جاوید نور کے مطابق شاہراہ دستور پر موجود مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب بڑھنے کی ایک  بار پھر کوشش کی ہے جسے ناکام بنانے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی بڑی تعداد میں شیل فائر کیے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق آنسو گیس اتنی شدید ہے کہ میڈیا سمیت تمام افراد کو شاہراہ دستور سے فوری طور پر جانا پڑا ہے۔ کوریج کے لیے آئے ہوئے میڈیا ورکرز اور کئی مظاہرین کی حالت غیر ہوگئی ہے۔ اُدھر اسلام آباد کی انتظامیہ نے پولیس کی مذید نفری طلب کر لی ہے۔

احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اِس کے علاوہ مظاہرین اپنے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین نے وفاقی سیکریٹریٹ کا دروازہ بند کرکے وہاں احتجاج کیا ہے جبکہ انتظامیہ نے شاہراہ دستور پر واقع حساس عمارتوں کے داخلی دروازوں پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ مزید مظاہرین کو سیکریٹریٹ جانے سے روکنے کے لیے پولیس نے رکاوٹیں لگا کر راستوں کو بند کردیا ہے۔

پاکستان کے معروف صحافی اور حالات حاضرہ کے پروگرام کے میزبان حامد میر نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں اُنہوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی آنسو گیس دکھانے کی کوشش کی ہے۔

احتجاج کی کال پاکستان میں حاضر سروس اور سابق سرکاری ملازمین کی انجمنوں نے دی ہے۔ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے پلیٹ فارم سے دی جانے والی احتجاج کی کال میں حصہ لینے کے لیے بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین اسلام آباد کے وفاقی سیکریٹریٹ پہنچے تھے۔

سرکاری ملازمین احتجاج

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران بتایا ہے کہ ’مظاہرین کے 1 سے 16 گریڈ تک کے 95 فیصد ملازمین کے لیے کیے جانے والے مطالبات جائز ہیں اور اُنہیں تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن بقیہ 5 فیصد میں 22 گریڈ تک کے افسران بھی آجاتے ہیں جن سے بجٹ پر بڑا فرق پڑرہا ہے۔ ‘

اِس کے علاوہ مختلف وفاقی محکموں میں بدھ کو سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال بھی کی ہوئی ہے۔ سرکاری محکموں میں کام بند ہے اور مظاہرین پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس فائر کرنے کی خبر عام ہونے کے بعد ملک بھر کے سرکاری ملازمین کے کام بند کرنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کے کسانوں کا فصلوں کے کم معاوضے پر احتجاج

اگیگا کے مطالبات کیا ہیں؟

1- حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں طے شدہ یعنی تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے۔

2- عدلیہ، ایف آئی اے، نیب، پی آئی اے، ایف بی آر اور پولیس کے ملازمین کی تنخواہیں باقی محکموں میں کام کرنے والے سول سرونٹس سے بہت زیادہ ہیں جن کی برابری بہت ضروری ہے۔

حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے کیا کیا؟

اگیگا کے ساتھ مذاکرات کے بعد کابینہ کے اجلاس میں تنخواہوں میں اضافے پر بات ہوئی اور اصولی منظوری بھی دی گئی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نا ہی اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

اگیگا کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اُن کے احتجاج سے قبل مذاکرات میں طے شدہ اصول کے تحت تنخواہوں میں اضافہ کردیتی ہے تو وہ بدھ کو اسلام آباد میں یوم تشکر منائیں گے بصورت دیگر وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ سرکاری کلرکس کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے اِس احتجاج میں شامل نہیں ہے اور اُس کے ممبران نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

متعلقہ تحاریر