اعتماد کے ووٹ کے بعد حزب اختلاف کا ہدف کیا ہوگا؟

سینیٹ انتخاب میں مقابلے کے بعد حزب اختلاف کا مقصد سینیٹ کی چیئرمین شپ پر قبضہ کرنا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان تنازعہ سینیٹ کے انتخاب کے ساتھ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ سینیٹ کی صدارت برقرار رکھنے کے اگلے مرحلے میں چلا گیا ہے۔ حزب اختلاف مستقبل میں صرف وفاق ہی نہیں بلکہ پنجاب پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔

پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور حکومتی اتحاد کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کے درمیان انتخاب میں مقابلے کے بعد حزب اختلاف کا مقصد سینیٹ کی چیئرمین شپ حاصل کرنا ہے۔ سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی اکثریت ہے۔ حزبِ اختلاف کے پاس 53 جبکہ حکومت کے پاس 47 نشستیں ہیں۔

حزب اختلاف ممکنہ طور پر یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر لانے اور تحریک انصاف کے ذریعے دوبارہ نامزد ہونے والے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے لیے کوشاں ہے۔

صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے اپنی نامزدگی کے بعد سے ہی اپنی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اتحادیوں سے ملاقاتوں میں ووٹ دینے کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعظم پاکستان نے اعتماد کے 178 ووٹ حاصل کر لیے

سینیٹ کے انتخاب میں حزبِ اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو کامیابی ملی تھی جبکہ حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کے بعد وزیراعظم نے یہ کہتے ہوئے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا کہ ’عبدالحفیط شیخ پر عدم اعتماد کا مطلب حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ جس کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے سامنے آ کر اظہار کرے۔‘

سینیٹ انتخاب

آج وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کے 178 ووٹ حاصل کیے ہیں جو مطلوبہ تعداد سے 6 ووٹ زیادہ ہیں۔

اُدھر پی ڈی ایم وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے پر غور کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے وفاق اور پنجاب دونوں میں اس اقدام کی حمایت کی تھی تاہم اسلام آباد میں ناکامی کے بعد حزب اختلاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کررہی ہے۔

سنیچر کے روز بھی پی ڈی ایم کا ایک اجلاس سندھ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں تینوں بڑی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی تھی۔  اِس اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں پر حملے کی مذمت کی گئی۔

متعلقہ تحاریر