4 ماہ کی تنخواہ سے محروم پبلک نیوز کے رپورٹر چل بسے

پبلک نیوز کے رپورٹر مستنصر عباس پسماندگان میں بیوہ اور 3 بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں نجی نیوز ٹی وی چینل ’پبلک نیوز‘ سے وابستہ سینئر رپورٹر مستنصر عباس گذشتہ 4 ماہ سے زائد عرصے کی تنخواہ کے منتظر تھے جو دل کا دورہ پڑنے اور حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔

پبلک نیوز کے رپورٹر مستنصر عباس پسماندگان میں بیوہ اور 3 بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ وہ پبلک نیوز میں دوران ملازمت دل کے عارضے کی تشخیص کے باوجود کام کام اور صرف کام کی سوچ اپنائے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ ادارے کی جانب سے تنخواہوں کی بر وقت ادائیگی نہ ہونے سے علاج معالجے میں سفید پوش صحافی نے کسی کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ نہ پھیلایا۔

صحافتی زندگی میں مختلف اداروں میں جاں فشانی سے کام سرانجام دینے والے مرحوم سید مستنصر عباس کی نماز جنازہ اور تدفین ان کے آبائی گاؤں نارووال سنکترہ میں کی گئی ہے۔

سینئر صحافی مستنصر عباس کی وفات پر اظہار افسوس

سینئر صحافی مستنصر عباس کی وفات پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور صحافتی تنظیموں نے افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مستنصر عباس کے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مستنصر عباس کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستنصر عباس محنتی، باصلاحیت، بااخلاق رپورٹر اور ایک اچھے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری رانا محمد عظیم اور صدر شہزاد حسین بٹ کا کہنا ہے کہ مستنصر عباس ایک بہت ہی اچھے انسان اور محنتی رپورٹر تھے جو سردی اور گرمی کی پروہ کیے بغیر ہمشیہ کام کرتے نظر آئے۔

عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باوجود ہر وقت اپنی فرائض ایمانداری سے ادا کرتے جبکہ ادارے میں کام کی زیادتی اور بروقت تنخواہ نہ ملنے کے باعث پریشان رہتے تھے۔ وہ دنیا سے اسی پریشانی میں چلا گئے۔ میڈیا مالکان کی جانب سے صحافیوں کے معاشی قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ان کے بقایاجات اور اہل خانہ کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کریں۔

پبلک نیوز کا موقف

مستنصر عباس کی تنخواہ کی عدم ادائیگی پر موقف لینے کے لیے نیوز 360 نے پبلک نیوز کے بیور چیف ناصر نقوی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ صرف یہاں نہیں بلکہ پوری میڈیا انڈسٹری میں ہے۔ ان کی تنخواہیں ادا ہونے والی ہیں مگر صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس پر کی جانے والی سیاست درست نہیں۔ مستنصر عباس ہمارے محنتی رپورٹر تھے اور اس بات کا ہمیں بھی اتنا ہی دکھ ہے جتنا ان کے خاندان کو ہوگا۔‘

بیور چیف پبلک نیوز نے مزید بتایا کہ مستنصر عباس عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ جس وقت مستنصر عباس پی آئی سی چیک اپ کے لیے جاتے تھے تو چیئرمین پبلک نیوز عبدالجبار، ڈائریکٹر نیوز فواد خورشید اور بیورو چیف ناصر نقوی مستنصر کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے دسمبر کے مہینے میں چھٹیاں بھی لی تھیں جبکہ ان کے علاج کے لیے ادارے کی جانب سے خصوصی طور پر جنوری کے مہینے میں 50 ہزار روپے دیے گئے تھے۔ دیگر واجبات جلد ازجلد ادا کر دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

جنگ گروپ کے برطرف ملازم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے

دوسری جانب نام نہ بتانے کی شرط پر نیوز 360 کو ذرائع نے بتایا کہ ادارے میں اس وقت کام کرنے والے صحافی تقریباً ایک سال سے زائد عرصے سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے لیے انہوں نے معتدد بار انتظامیہ کو یاد دہانی کرائی ہے۔ مگر تاحال ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔ کسی کی 4 ماہ، کسی کی 6 ماہ اور کسی کی ایک سال سے زیادہ کی تنخواہیں ملنا باقی ہیں۔

متعلقہ تحاریر