شوکت ترین کو وزیر خزانہ کس معیار کے تحت بنایا گیا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن شوکت ترین پر کرپشن کا الزام ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کابینہ میں تبدیلی کرتے ہوئے شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے کا اعلان کردیا ہے ان کی تقرری عمران خان کے ہی اصولوں کے برخلاف ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 2 اور 8 ماہ کی حکومت میں شوکت ترین چوتھے وزیر خزانہ ہیں۔ ان سے قبل اسد عمر، عبدالحفیظ شیخ اور حماد اظہر اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے والے شوکت ترین اس سے قبل بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ 2008 سے 2010 تک وہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے دورِ حکومت میں یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر شوکت ترین نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مشیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے تھے جبکہ 2009 میں سندھ سے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد وہ وفاقی وزیر خزانہ بن گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اقتصادی مشاورتی کونسل اور مفادات کا ٹکراؤ

اب وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا ہے جو ان کے ہی طے کیے گئے معیار کے خلاف ہے کیونکہ شوکت ترین پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ سابق وزیر اعظم پرویز اشرف کے ساتھ شوکت ترین کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں رینٹل پاور پراجیکٹ کا ریفرنس دائر تھا۔ احتساب عدالت نے انہیں بردی کردیا گیا تاہم نیب نے اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

رینٹل پاور کیس میں راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں کرپشن کی اور اختیارات سے ناجائز استعمال کیا ہے۔

Hum News

شوکت ترین پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے وزیر خزانہ کے منصب کے باوجود اپنے سلک بینک کے لیے زر (ایکوٹی) کا انتظام کیا تھا جو کہ مفادات کا ٹکراؤ تھا۔ انہوں نے سلک بینک کے حصص بڑھانے کا تنازعہ سامنے آنے کے بعد مفادات کے ٹکراؤ کی بنا پر 2010 میں وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس وقت سلک بینک کے حصص کی قیمت 1 روپے 27 پیسے ہے اور حصص بازار میں اس کی قدر بہت کم ہے۔ حصص کی قیمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اُس بینک پر اعتماد نہیں کرتے۔ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنی معاشی ٹیم میں تبدیلیوں کے بعد شوکت ترین کو اقتصادی مشاورتی کونسل میں شامل کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم عمران کرپشن کے خلاف بولتے ہیں لیکن انہوں نے شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا کر اپنے ہی طے کیے گئے معیار کی خلاف ورزی کی ہے۔ شوکت ترین پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں اور ان کے بینک (سلک بینک) کی کارکردگی بھی اچھی نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص سے ملکی معیشت سے متعلق اچھی خبروں کی امید کیسے لگائی جاسکتی ہے جو ایک بینک تک کی کارکردگی بہتر نہیں کرسکے؟‘

متعلقہ تحاریر