ایویسینا اسکول نے ٹیچر کی تنخواہ روک لی

اسکول سے مستعفی ہونے والی ٹیچر نے انتظامیہ کے رویے اور اساتذہ کو پیش آنے والی مشکلات کو بیان کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ایویسینا اسکول نے اپنی سابقہ ٹیچر کی تنخواہ اسکول چھوڑتے وقت ضابطے کی تمام کارروائی مکمل کرنے کے باوجود روک لی ہے۔ اسکول کی ایک ٹیچر کا کہنا ہے کہ ’میں اسکول کے ٹیپو سلطان کیمپس میں تقریباً 4 سال سے پڑھا رہی تھی۔ پرنسپل کے مطابق میں اسکول کی بہترین ٹیچر تھی۔‘

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں ایویسینا اسکول کی ایک ٹیچر صدف عزیر نے اپنی روداد سناتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے ایک ماہ پہلے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ میں نے اپنی نوٹس کی مدت بھی مکمل کی تھی جو 15 فروری سے 15 مارچ 2021 تک تھی۔ جب میں نے اسکول سے استغفیٰ دیا تب مجھ سے اسکول کی پرنسپل نے کہا کہ آپ پورا نصاب مکمل کروا کر جائیں کیونکہ نئی ٹیچر کے لیے فوری طور پر کام کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے اسکول کی پرنسپل  نے یہ بھی کہا کہ امتحانات کے لیے ری انفورسمنٹ ورک شیٹس بھی تیار کروں۔ میں نے پرنسپل کی ہر ہدایت پر عمل کیا حتیٰ تک کہ جن بچوں کا کام مکمل تھا میں نے ان بچوں کی کاپی بھی چیک کی اور ان پر مہر بھی لگائی۔ جن بچوں کا کام مکمل نہیں تھا ان کے نام بھی اپنے پاس لکھے۔ فائنل کے امتحانات کے لیے جتنے نمبرز درکار تھے میں نے وہ بھی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کا سرکاری اسکول جہاں داخلے کے لیے قطار لگتی ہے

انہوں نے بتایا کہ جب تنخواہ کی بات آئی تو پرنسپل نے مجھے پوری تنخواہ نہیں دی۔ ایویسینا اسکول نے مجھے 15 روز کی تنخواہ دینی تھی لیکن انہوں نے اب تک مجھے میری تنخوا کے 4 ہزار 500 روپے نہیں دیے ہیں۔

ٹیچر کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے مجھے کال کی اور میری تنخواہ کے بارے میں بھی پوچھا۔ ایک ہفتے کے بعد میں نے ایویسینا اسکول کے مالک عادل بٹ کو فون کیا اور انہیں سب کچھ بتایا۔ انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ میری 15 روز کی تنخواہ ادا کردی جائے گی۔ یہ میرے لیے افسوس کن بات تھی کہ اتنے بڑے اسکول میں انتظامیہ والدین سے ہر ماہ بھاری فیس وصول کرتے ہیں لیکن جب ٹیچرز کی تنخواہوں کی بات آتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ہر ماہ  ہمیں اسکول کی انتظامیہ سے اپنی تنخواہوں کے بارے میں  پوچھنا پڑتا تھا۔ وہ ہمیشہ ہماری تنخواہوں کو 2 حصوں میں دیتے تھے۔ تنخواہ کا پہلا حصہ مہینے کی 10 سے 12 تاریخ تک جبکہ دوسرا حصہ 20 تک آتا تھا۔

صدف عزیر نے مزید بتایا کہ جب اساتذہ اپنے حقوق اور تنخواہ کی بات کرتے ہیں تو ایویسینا اسکول کی پرنسپل بہت بدتمیزی سے ردعمل دیتی ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن کا میں حوالہ بھی دے سکتی ہوں۔ میں بہت زیادہ مایوس ہوگئی ہوں۔ آخرکار ہم ٹیچرز کو اپنی تنخواہوں کی بھیک مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟

متعلقہ تحاریر