پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم

وفاقی وزیر نے ٹی وی چینل بول نیوز سے معافی کا مطالبہ کردیا۔

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کے بعد حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 2 رہنماؤں کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا لیکن حقیقت جلد ہی سامنے آگئی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے بدھ کو ہونے والے پرتشدد مظاہرے کے بعد حکومت نے اگلے دن جماعت کو کالعدم قرار دے دیا مگر اس معاملے کے بعد پی ٹی آئی کے 2 رہنماؤں کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے آڈیو کلپ شیئر کیا جس میں نہایت نامناسب الفاظ میں حکومت اور ٹی ایل پی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور حیران کن طور پر وہ آواز وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سے ملتی جلتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت چینی کی قیمت اور جہانگیر ترین پر قابو پانے میں ناکام

کلپ کو سوشل میڈیا پر پھیلانے والوں نے یہ تاثر دیا کہ آواز علی زیدی کی ہی ہے تاہم علی زیدی خود اس جھوٹی ریکارڈنگ کی حقیقت سامنے لے آئے۔ وفاقی وزیر نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلی آڈیو میں سنائی دینے والی آواز امریکا میں مقیم قاضی راحیل نامی شخص کی ہے۔ علی زیدی کی جاری کردی ویڈیو میں قاضی راحیل کی تصویر اور دیگر تفصیلات بھی موجود تھیں۔

دوسری جانب بول نیوز نے وفاقی وزیر علی محمد خان کے بارے میں خبر نشر کی کہ وہ ٹی ایل پی پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں۔ چینل کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر ٹی ایل پی پر سے پابندی ہٹائی نہیں گئی تو علی محمد خان پی ٹی آئی چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ اس خبر کو نہ صرف ٹی وی پر بریکنگ نیوز کے طور پر دکھایا گیا بلکہ چینل کے ٹوئٹر ہینڈل سے بھی وائرل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس خبر کا پول بھی جلد ہی کھل گیا۔

 وفاقی وزیر نے اپنے متعلق بول نیوز کی خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کردیا ہے۔

متعلقہ تحاریر