ایس او پیز پر عمل نا کیا تو حالات انڈیا جیسے ہوجائیں گے، وزیر اعظم

حکومت نے ملک میں عید تک آؤٹ ڈور ڈائنگ پر پابندی عائد کردی ہے۔

پاکستان میں کرونا وبا کی سنگین صورتحال کے پیش نظر قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) برائے کرونا کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے وارننگ جاری کردی ہے۔

صورتحال پر جلد قابو پانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت این سی سی کا اجلاس بلایا گیا۔ اجلاس کے بعد سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگلے 2 ہفتوں میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ملک کے حالات انڈیا جیسے ہوجائیں گے جہاں لوگ آکسیجن کے لیے ترس رہے ہیں۔

ملک میں کوویڈ 19 کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث این سی سی کے اجلاس میں آج اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے 5 فیصد سے زیادہ کیسز والے اضلاع میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کی حاضری کے علاوہ دفتری اوقات دوپہر 2 بجے تک محدود کردیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں کرونا ویکسین لگانے کا عمل سست رفتاری کا شکار

 عید تک آؤٹ ڈور ڈائنگ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس فیصلے کی ایک اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سحر و افطار میں شہری بڑے گروہوں کی صورت میں باہر کھانا کھانے کو ترجیح دے رہے ہیں اور سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ اس کی تازہ مثال کراچی کے برنس روڈ کی یہ ویڈیو ہے۔

رمضان میں افطار کے بعد بازار بند جبکہ شام 6 بجے کے بعد اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ تاہم، وفاق نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں شہریوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے فوج بھی طلب کرلی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام بھی شیئر کیا۔

واضح رہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کرونا کے 5 ہزار870 کیسز سامنے آئے جبکہ 144 افراد وبا کے باعث موت کے گھاٹ اتر گئے۔

متعلقہ تحاریر