فرانس کے سفیر کو نکالنے کے اثرات کیا ہوں گے؟

2017 سے پاکستان اور فرانس کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم 1.4 ارب یوروز ہے جس میں سالانہ 4.6 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان ہونے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوچکا ہے۔ حکومت نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے فرانس کے سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد بھی قومی اسمبلی میں پیش کردی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ مینٹیننس آف پبلک آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت گرفتار افراد کو رہا کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں ملک میں احتجاج کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔

 فواد چوہدری نے لکھا کہ مسلم لیگ (ن) یا پاکستان پیپلز پارٹی اپنی قراداد لانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف رہا، نواز شریف کی جائیداد نیلام

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا معاملہ نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ اور تعلقات اس سے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

پاکستان اور فرانس کے تجارتی تعلقات

سینیئر صحافی عمر قریشی نے پاکستان اور فرانس کے درمیان تجارتی تعلقات کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ 2017 سے پاکستان اور فرانس کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم 1.4 ارب یوروز ہے جس میں سالانہ 4.6 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔

عمر قریشی نے لکھا کہ 2014 سے فرانس میں ٹیکسٹائل کی برآمدات سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ فرانس کے کم و بیش 32 بڑے ادارے اور گروپ آف کمپنیز پاکستانی معیشت کے کلیدی اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

عمر قریشی نے لکھا کہ فرانس کے 185 ادارے پاک فرانس بزنس الائنس کے رکن ہیں۔

عمر قریشی نے فرانسیسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فرانس کی توجہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون، عسکریت پسندی کے انسداد سے وابستہ علاقوں میں فوجی تربیت اور فوجی میدان میں فرانسیسی زبان کی تعلیم پر بھی مرکوز ہے۔

انہوں نے لکھا کہ فرانس نے آسان شرائط پر کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے 12 ارب 3 کروڑ روپے قرض فراہم کیا ہے۔

عمر قریشی کے مطابق پیرس کلب نے پاکستانی قرض کی وصولی کو ملتوی کردیا ہے۔ قرض کی قسط (جو کہ 78 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز بنتی ہے) اب پاکستان اگلے سال ادا کرے گا۔ اس قرض میں سب سے زیادہ حصہ فرانس اور جاپان کا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جو کہ منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرنے والا ادارہ ہے اس کا صدر دفتر پیرس میں ہے۔

جبکہ فرانس انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کا بھی ممبر ہے۔

اس سب کے علاوہ پاکستان کے پاس میراج تھری اور میراج فائیو طیارے ہیں جن کی تعداد بالترتیب 56 اور 69 ہے۔ یہ تمام طیارے پاکستان نے فرانس سے خریدے ہیں۔ جے ایف 17 اور ایف 16 طیاروں کے بعد میراج طیارے پاک فضائیہ کا اہم ہتھیار ہیں۔

رواں سال فروری میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون تک کی مہلت دی تھی کہ وہ تجویز کردہ 27 میں سے بقیہ 3 سفارشات پر مزید کام کرے۔

حکومت کالعدم تحریک

رواں برس 19 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے سے نقصان فرانس کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہوگا۔ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کا مطلب یورپ سے تعلقات منقطع کرنا ہے۔

حکومت کالعدم تحریک

ان کا کہنا تھا کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے اور ان سے تعلقات ختم کردینے سے یہ سب رک جائے گا؟ کیا کوئی ضمانت ہے کہ اس کے بعد کوئی گستاخی نہیں کرے گا؟

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری آدھی ٹیکسٹائل کی برآمدات یورپی یونین میں جاتی ہیں اور اگر تعلقات ختم کرتے ہیں تو یہ برآمدات ختم ہوجائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے روزگاری بڑھے گی، فیکٹریاں بند ہوجائیں گی اور ہمارے روپے پر بھی دباؤ پڑے گا۔ نقصان ہمیں ہوگا فرانس کو نہیں۔

متعلقہ تحاریر