صحافی، علماء اور سیاستدان وبا کو بڑھاوا دینے میں پیش پیش

صوبائی وزراء، مولانا طارق جمیل،مشتاق سرکی اور خیرپور پریس کلب کی افطار میں احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا گیا۔

کسی بھی معاشرے میں سیاستدانوں، صحافیوں اور علماء کرام کے قول و فعل کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ عوام ان معتبر شخصیات کی بات کو سنتے اور مانتے ہیں۔ لیکن ان دنوں پاکستان میں یہی معتبر افراد عوام کو سبق دینے کے بجائے خود کرونا سے بچاؤ کی ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے میں سب سے آگے ہیں۔

پاکستان میں کرونا وبا ایک مرتبہ پھر سر اٹھارہی ہے لیکن سیاستدان، صحافی اور علماء کرام عوام کے لیے مثال بننے کے بجائے انہیں بالواسطہ طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کا درس دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کرونا کی تیسری لہر سے بڑی حد تک متاثر ہونے والا صوبہ ہے مگر اسی صوبے کے وزراء کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے تقریبات پر پابندی کے باوجود افطار پارٹی میں شرکت کی جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ایک دن میں کرونا سے 201 اموات

پچھلے دنوں خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ افطار پارٹی میں نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہوئی تو صارفین نے تنقید کی۔ صوبائی وزیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا کہ افطار پر پہنچنے سے قبل انھیں مہمانوں کی تعداد اور افطار کی جگہ کا علم نہیں تھا۔

اُدھر معروف عالم دین مولانا طارق جمیل مختلف ٹی وی پروگرامز میں عوام کو کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں مگر ان کے کپڑوں کے برانڈ کے افتتاح کی تقریب میں نہ تو سماجی فاصلے کا خیال رکھا گیا نہ ہی کسی شخص نے ماسک کی پابندی کی۔

سینیئر صحافی مشتاق سرکی نے کراچی کے ڈی ایچ اے کلب میں شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں متعدد دوستوں کو مدعو کیا گیا۔ صحافیوں کی اس محفل میں ایس او پیز کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی۔

خیرپور کے پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں بھی کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

متعلقہ تحاریر