جسٹس فائز عیسیٰ کا صحافی کے مذہب سے متعلق متنازعہ سوال
جسٹس فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں صدیق جان سے مذہب سے متعلق سوال کیا تھا اور سچ بولنے کو کہا تھا۔ ۔

صحافی اور یوٹیوبر صدیق جان گذشتہ دنوں ٹرینڈ بنے رہے جس کی وجہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا صدیق جان سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا جانے والا سوال تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے صدیق جان سے مسلمان ہونے کا پوچھ کر نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔
یوٹیوبر صدیق جان اپنا چینل بھی چلاتے ہیں اور اپنی ویڈیوز میں ملکی سیاسی اور عدالتی معاملات پر تجزیہ کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’اسٹے اسٹرونگ صدیق جان‘ کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا جس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین صدیق جان کی حمایت کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا یہ الیکٹرانک اور ڈجیٹل میڈیا کے درمیان جنگ کا نکتہ آغاز ہے؟
دراصل اس ٹرینڈ کے پیچھے صدیق جان اور جسٹس فائز عیسیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے جو کمرہ عدالت میں ہوئی تھی۔ صدیق جان کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں انہیں تضحیک آمیز رویے کا نشانہ بنایا اور ان سے مذہب سے متعلق سوال کیا۔
جسٹس قاضی: تم (صدیق جان) مسلمان ہو؟
صدیق جان: جی الحمداللہ
جسٹس قاضی: سچ بولا کرو۔ pic.twitter.com/ufPhVd0nxK
— Umar (@umaraqti) April 26, 2021
جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا آپ مسلمان ہو؟ جس پر صدیق جان نے کہا کہ جی الحمداللہ۔ اس جواب پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ سچ بولا کرو۔
جسٹس فائز عیسیٰ کے صدیق جان سے پوچھے گئے اس سوال سے نئے تنازعے نے جنم لے لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ٹوئٹر صارفین نے صدیق جان کی حمایت میں بےشمار ٹوئٹس کیے جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا لیکن قابل فکر بات یہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے یہ سوال کیوں کیا؟
شاید جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر میں جھوٹ بولنا صرف غیرمسلموں کا کام ہے لیکن کیا وہ اس بات کی دلیل دے سکیں گے؟

اس بات سے قطع نظر کہ صدیق جان سچے ہیں یا جھوٹے ایسا ہر گز ضروری نہیں کہ جو انسان مسلمان ہو وہ بالکل بھی جھوٹ کا سہارا نہ لے۔ بلاشبہ سچا ہونا اچھے انسان ہونے کی ایک نشانی ہے لیکن کسی شخص کی مسلمانیت کو اس کے سچ یا جھوٹ کے ترازو میں قطعی نہیں تولا جاسکتا۔
ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھا جائے تو آئے روز سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں کئی الزامات سچ اور بیشتر غلط ثابت ہوتے ہیں جبکہ ہماری شوبز انڈسٹری کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
غرض کہ ہر شعبے میں سچے یا جھوٹے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الفاظ کے مطابق سوچیں تو کیا یہ لوگ بھی مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہیں؟









