کالعدم ٹی ایل پی ضمنی انتخاب میں کراچی کے عوام کی تیسری پسند

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار نذیر احمد نے 11 ہزار 125 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) عوام کی تیسری بڑی پسند کے طور پر سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 میں جمعرات کے روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے عبدالقادر خان مندوخیل نے انتخاب جیت لیا ہے جبکہ کالعدم ٹی ایل پی کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔

عبدالقادر خان مندوخیل نے 16 ہزار 156 ووٹ لے کر فتح حاصل کی ہے۔ دوسری نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) رہی جس کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے 15 ہزار 473 ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیے

فرخ حبیب کا سیاسی سفر سیاستدانوں کے لیے مشعل راہ

کراچی کے حلقے این اے 249 کے عوام کی تیسری انتخابی پسند کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) رہی ہے جس کے امیدوار نذیر احمد نے 11 ہزار 125 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے مصطفیٰ کمال 9 ہزار 227 ووٹ حاصل کر کے چوتھے، تحریک انصاف کے امجد آفریدی 8 ہزار 922 ووٹ حاصل کر کے پانچویں اور ایم کیو ایم پاکستان کے محمد مرسلین 7 ہزار 511 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر رہے۔

حلقے این اے 249 کی یہ نشست پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 2018 کے انتخاب میں فیصل واؤڈا نے شہباز شریف کو کانٹے دار مقابلے کے بعد اسی نشست پر شکست دی تھی۔ جبکہ ٹی ایل پی نے بھی 23 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جو اس وقت کالعدم قرار نہیں دی گئی تھی۔

حلقے این اے 249 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 39 ہزار سے زیادہ ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 1 ہزار 656 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 37 ہزار 935 ہے۔ حلقے میں 276 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے۔

کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 میں جمعرات کے روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے سندھ حکومت نے حلقے میں تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ حلقے میں پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔

حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ کئی پولنگ اسٹیشنز پر تیاریاں نامکمل ہونے کی وجہ سے پولنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ضمنی انتخاب میں فتح کے بعد اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی پیپلزپارٹی قیادت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ پارٹی قیادت اور حلقے کے عوام بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جیت سے حلقے کے دیرینہ مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔  عوام نے بدترین مہنگائی اور ڈوبتی معیشت کے خلاف فیصلہ دیا۔ پی ٹی آئی نے صرف بلدیہ کی عوام کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی عوام کو مایوس کیا ہے۔

The News

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ ’این اے 249 میں پیپلز پارٹی کی کامیابی حق و سچ کی کامیابی ہے۔ بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں آج پیپلز پارٹی ملک کی سب سے مقبول جماعت بن چکی ہے۔ پیپلزپارٹی حلقے کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انشاءاللہ اب اس حلقے کے عوام آج تک جن محرومیوں کا شکار رہے ہیں اس کا ازالہ اب پیپلزپارٹی کر کے دکھائے گی۔‘

DAWN

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ضمنی انتخاب پر پارٹی آفس کے باہر کے ویڈیو شیئر کی تھی جس میں کارکنان کو جشن مناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

مریم نواز نے یہ ویڈیو اس وقت شیئر کی تھی جب غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل سب سے آگے تھے۔

دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو کراچی میں اپنا جھنڈا گاڑنا ہے جس کی ابتداء آج ہوئی ہے۔

بعد ازاں مفتاح اسماعیل نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ پولنگ اسٹیشن 206 اور 261 کے پریزائڈنگ افسر نتیجہ دیے بغیر پولنگ اسٹیشن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس ٹوئٹ کے جواب میں مریم نواز نے تنبیہ کی کہ اگر نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو مسلم لیگ (ن) اپنا حق لینا سیکھ چکی ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ جس نے بھی یہ بھونڈی کوشش کی ہے اسے شاید ڈسکہ کا انجام یاد نہیں ہے۔

جس کے بعد مریم نواز نے کہا کہ عوام کا ووٹ چوری کرنے والے جلد کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ضمنی انتخاب ہوا، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے امیدوار بھی ہیں۔ انتخاب شفاف ہوتا تو کوئی آواز نہیں اٹھاتا، اس انتخاب کے بارے میں ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ انتخاب کوئی بھی جیتے لیکن ابہام پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 15 فیصد ٹرن آؤٹ والے انتخاب کے نتائج میں تاخیر ہوئی۔ ووٹرز کی گنتی باآسانی 2 گھنٹے میں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی اس انتخاب کے نتائج کو مسترد کردیا ہے۔

خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ ’انتخاب میں الیکشن کمیشن اور پولیس کے ذریعے دھاندلی کی گئی ہے۔ پوری انتخابی مہم میں الیکشن کمیشن کا کردار جانبدار رہا۔ الیکشن کمیشن شفاف انتخاب کرانے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کہیں انتخابی مہم میں ظاہر ہی نہیں تھی۔ تمام سروے میں تحریک انصاف کامیابی حاصل کررہی تھی۔ الیکشن کے دن اچانک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) لیگ سامنے آگئے۔ پیپلزپارٹی کا حلقے میں ووٹ موجود نہیں تو اتنے ووٹ کہاں سے ملے؟ تحریک انصاف اپنا مزید لائحہ عمل کل پریس کانفرنس میں دے گی۔‘

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے انتخاب کے نتائج کو سمجھ سے بالاتر قرار دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر