عید تعطیلات: حکومت کے لیے لاک ڈاؤن ایک چیلنج
وفاقی حکومت نے 8 مئی سے 16 مئی تک نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔
حکومت پاکستان نے رواں برس عید الفطر کے موقع پر 10 سے 15 مئی تک عام تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ عید الفطر پر طویل تعطیلات کا مقصد کرونا کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے لیے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کرانا ہے جو وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
ملک بھر میں کرونا کی وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے 8 مئی سے 16 مئی تک نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق عید الفطر کے موقع پر 6 سرکاری تعطیلات ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے
کالعدم ٹی ایل پی ضمنی انتخاب میں کراچی کے عوام کی تیسری پسند
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اہم اجلاس جمعرات کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں ملک میں کرونا کی صورتحال اور ویکسینیشن سمیت وباء پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور عیدالفطر کی چھٹیوں کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں۔
NCOC announces ‘Stay Home Stay Safe Strategy’ for mobility control from 8-16th May 21 including Eid ul Fitr holidays pic.twitter.com/6yqo4BnV9r
— NCOC (@OfficialNcoc) April 29, 2021
این سی او سی کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں 8 سے 16 مئی تک ’گھر میں رہو محفوظ رہو‘ کی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ عید الفطر پر 10 سے 15 مئی تک سرکاری تعطیلات ہوں گی۔ زیادہ چھٹیوں کا مقصد عید کے دوران ملکی سطح پر نقل حمل کو محدود کرنا ہے۔
این سی او سی کے مطابق یوم علی، شب قدر، اعتکاف اور جمعتہ الوداع کے لیے جاری ہدایات پر عملدرآمد یکم مئی سے ہوگا۔ ’گھر میں رہو محفوظ رہو‘ کی حکمت عملی کے تحت تمام مارکیٹس، دکانیں اور کاروبار بند رہیں گے۔

این سی او سی نے چاند رات پر تمام مہندی، جیولری اور کپڑوں کے اسٹالز پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔
این سی او سی کے مطابق تفریحی مقامات اور ان کے اطراف موجود ہوٹلز بھی بند رہیں گے۔ تمام تفریحی مقامات، پبلک پارکس، شاپنگ مالز 8 سے 16 مئی تک بند رہیں گے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی ہوگی۔ نجی گاڑیوں، رکشوں اور ٹیکسیز کو 50 فیصد سواریوں کے ساتھ نقل و حمل کی اجازت ہوگی۔ اس موقع پر اشیائے خورد و نوش کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے۔
این سی او سی کی ہدایات کے مطابق ریسٹورنٹس سے کھانا لے جانے کی اجازت ہوگی۔
این سی او سی نے ہدایت کی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا عید کی تعطیلات کے دوران لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کے لیے تفریحی پروگرامز، فلمیں اور ڈرامے نشر کرے تاکہ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھا جاسکے۔ عید الفطر کی چھٹیوں پر بجلی کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی۔
این سی اوسی نے مقامی اور باہر کے تمام تفریحی مقامات پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس لیے تفریحی مقامات کے قریب موجود تمام سیاحتی مقامات، پبلک پارکس، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بند رہیں گے۔

این سی او سی کے اجلاس میں سیاحتی مقامات کی جانب جانے والے راستوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مری، گلیات، سوات، کالام، ساحل سمندر، شمالی علاقہ جات اور دیگر سیاحتی مقامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
این سی او سی کے فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مقامی افراد کو گھروں کو واپس جانے کے لیے سفر کی خصوصی اجازت ہوگی۔
وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’7 مئی تک مسافروں کو لے جانے کے لیے اضافی ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ ریل گاڑیوں میں 70 فیصد مسافر کرونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے سفر کر سکیں گے۔‘

عیدالفطر کے موقع پر طویل تعطیلات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے اصل چیلنج عید کی نماز کے اجتماعات میں لوگوں کو میل ملاپ سے روکنا ہوگا۔ حکومتوں کے لیے یہ بھی ایک چیلنج ہے کہ کیسے گھروں میں ہونے والی دعوتوں اور تقریبات کو روکا جاسکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے تمام قسم کی تقریبات اور تفریحی مقامات پر جانے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سندھ کراچی کے شہریوں کو ساحل سمندر یا دیگر تفریحی مقامات پر جانے سے کیسی روکتی ہے؟ اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حکومت شہریوں کو باغات اور دیگر تفریحی مقامات پر جانے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے؟









