اے آر وائی نیوز کی پیمرا قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں

اے آر وائی کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر پیمرا اور پی بی اے نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

پاکستان کا بڑا میڈیا گروپ اے آر وائی مسلسل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے لیکن نگراں ادارہ اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) دونوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

پاکستان کا مشہور نیوز چینل اے آر وائی پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ جمعرات کے روز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے حلقے این اے 249 میں ضمنی انتخاب ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ایل پی ضمنی انتخاب میں کراچی کے عوام کی تیسری پسند

الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا کو ہدایت جاری کی تھی کہ انتخاب کے نتائج پولنگ ختم ہونے کے کم از کم ایک گھنٹے کے بعد نشر کیے جاسکیں گے۔ لیکن اے آر وائی نے پیمرا کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے 5 بجکر 7 منٹ پر ہی نتیجے کی بریکنگ نیوز چلا دی اور اس پر ندامت کے بجائے فخر سے اعلان بھی کیا کہ ’جے آر وائی‘ نے سب سے پہلے نتیجہ دینے کی روایت برقرار رکھی ہے۔

اے آر وائی نے پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی صرف یہ ہی نہیں کی بلکہ بدھ کے روز کیمبرج کے امتحانات سے متعلق بھی ایک گمراہ کن خبر نشر کی ہے۔

ایک نامعلوم شخص نے سوشل میڈیا پر اے لیولز سیکنڈ ایئر کے پیپراردو پی 2 اور اردو پی 4 کے مضامین لیک کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اے آر وائی نے خبر نشر کی کہ پیپرز لیک ہوگئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اے آر وائی کی جانب سے اس غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ پر تنقید کی گئی ہے۔ گذشتہ 2 روز میں اے آر وائی 2 مرتبہ پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر چکا ہے لیکن پیمرا اورپی بی اے نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

پیمرا نے رواں برس جنوری میں بول نیوز کا لائسنس 30 روز کے لیے معطل کردیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف توہین آمیز مواد نشر کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس موقع پر پی بی اے نے بدنیتی، غیر اخلاقی اور بےبنیاد مواد نشر کرنے پر بول گروپ پر کڑی تنقید کی تھی جو اس کا رکن نہیں ہے۔ پی بی اے نے بول نیوز پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے پیمرا پر زور بھی دیا تھا۔ جبکہ پیمرا بھی کئی ٹی وی چینلز پر غیر اخلاقی، بدنیتی یا غیرمصدقہ مواد نشر کرنے پر جرمانے عائد کر چکا ہے۔

لیکن اے آر وائی کی جانب سے 2 روز میں 2 مرتبہ پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر بھی پیمرا اور پی بی اے دونوں خاموش ہیں۔ دونوں اداروں نے اے آر وائی پر جرمانہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نوٹس بھیجا ہے۔

متعلقہ تحاریر