سینیٹ تا این اے 249 انتخاب، زرداری سیاست کا راج

پیپلزپارٹی نے جمعرات کو ہونے والے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستان میں سینیٹ انتخاب سے لے کر این اے 249 تک ملک میں زرداری سیاست راج کر رہی ہے۔

رواں برس مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخاب کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے اسلام آباد کی اہم نشست پر یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کے لیے دیگر بڑی جماعتوں کو راضی کیا۔ سینیٹ کے انتخاب میں یوسف رضا گیلانی نے سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے خلاف مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی حالانکہ حکومتی اتحاد نے ایوان بالا میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجتماعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم ٹی ایل پی ضمنی انتخاب میں کراچی کے عوام کی تیسری پسند

اس مقصد کے حصول کے بعد پیپلز پارٹی نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا شروع کی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کے رہنما کی مشترکہ نامزدگی کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی مزاحمت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے ہاتھ ملایا جو حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ جس کے بعد اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف منتخب کروایا۔

پاکستان میں زرداری سیاست کا راج یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ جمعرات کے روز کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بھی پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے کامیابی حاصل کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی اس حلقے میں شکست کے بعد انتخاب میں دھاندلی کے الزماات عائد کردیے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) اور ایم کیو ایم پاکستان نے بھی انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ اس انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو چوری کرلیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو متنازع انتخاب کے نتائج کو روک لینا چاہیے۔ اگر یہ نتیجہ نہیں روکا گیا تو یہ کامیابی عارضی ہوگی اور حلقے میں مسلم لیگ (ن) جلد واپس آئے گی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔

بلاول بھٹو نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا ان کا شوق ہے۔ پیپلز پارٹی سے مقابلہ کرنا ان کا شوق ہے، تو کرو  اور ہارو۔

پی ڈی ایم

انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کی طرح کراچی میں نہ دھند تھی اور نہ ہی پولنگ افسر غائب ہوئے۔ ڈسکہ ٹو کا شور مچانے والے بتائیں کہ ڈسکہ کی طرح فائرنگ کہاں ہوئی؟ شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور خود اپنی شکست دیکھ رہے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے دوستوں کو شکست کو تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے۔

ادھر وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ڈسکہ میں بھی یہی کیا تھا اور یہاں بھی کہ جس پولنگ اسٹیشن سے شکست ہورہی ہو وہاں ان کا پولنگ ایجنٹ نتیجہ لیے بغیر غائب ہوجائے اور پھر الزام الیکشن کمشین پر ڈال دیا جائے۔ شاید یہ بھول گئے کہ اس مرتبہ ان کا مقابلہ حقیقی جمہوری جماعت کے ساتھ تھا۔

متعلقہ تحاریر