انتخابی اصلاحات کی تجاویز میں اعتراض کس پر؟

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں نے انتخابی اصلاحات کی مخالفت کی ہے۔

حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج پر سیاسی جماعتوں کے اعتراض کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سمیت انتخابی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ لیکن بظاہر درست دکھنے والی انتخابی اصلاحات کی مسلم لیگ (ن) مخالفت کر رہی ہے۔

سنیچر کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات پر ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی تھی۔ اپنے پیغام میں عمران خان نے لکھا کہ انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بیٹھیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کے ماڈل کاانتخاب کریں۔ انتخابات شفاف ہوں گے تو ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

این اے 249 کے معاملے پر صحافیوں کے ذاتی نوعیت کے حملے

ادھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے انتخابی اصلاحات پر ساتھ بیٹھنے کی وزیراعظم کی دعوت کو مسترد کردیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا نے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام مسترد کردیا ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اسے ناقابل عمل قرار دے چکا ہے۔

اتوار کے روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق ہمیں حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔ حکومت اپنی اصلاحات الیکشن کمیشن کو بھجوائے پھر کمیشن سب جماعتوں کو رائے دہی کے لیے بلائے تو اس طرح اتفاق رائے ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) جن انتخابی اصلاحات کو مسترد کر رہی ہے وہ بظاہر درست ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے انتخابی اصلاحات سے متعلق تفصیلات اور تجاویز شیئر کی ہیں۔

تفصیلات

  • قومی اسمبلی میں انتخابی ترامیم کا بل 16 اکتوبر2020 کو پیش کیا گیا تھا اور اسی دن قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو بھیج دیا گیا تھا۔
  • قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا پہلا اجلاس 29 جنوری 2021 کو، دوسرا اجلاس 10 مارچ 2021 کو اور تیسرا اجلاس 31 مارچ 2021 کو منعقد ہوا تھا۔

تجاویز

  • الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو مزید مالی خود مختاری دی جائے۔
  • حلقہ بندی آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر کی جائے۔
  • اگر حلقہ بندی کی فہرستوں پر کسی کو اعتراض ہو تو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔
  • پولنگ اسٹاف کی تعیناتی حلقے کے باہر سے کی جائے۔
  • پولنگ اہلکاروں یا عملے کی تقرری کو 15 روز کے اندر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
  • نامزدگی کی فیس میں اضافہ کیا جائے۔
  • اگر منتخب امیدوار 2 ماہ تک حلف نہیں اٹھائیں تو نشست واپس لے لی جائے گا۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار 2018 میں پنجاب اسمبلی سے منتخب ہوئے تھے لیکن انہوں نے آج تک حلف نہیں اٹھایا ہے۔ حلف نہ اٹھانے کے باوجود بھی چوہدری نثار رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔

  • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹنگ کا حق دیا جائے۔
  • انتخاب کو شفاف بنانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا استعمال کیا جائے۔
  • سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ (کھلی رائے شماری) کے ذریعے منعقد کیے جائیں۔
  • اس جماعت کا سیاسی جماعت کے طور پر اندراج کیا جائے جس کے کم از کم 10 ہزار ممبرز ہوں جن میں 20 فیصد خواتین شامل ہوں۔
  • سیاسی جماعتوں کے سالانہ کنونشن کو لازمی قرار دیا جائے۔
  • سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابی عمل کے لیے اہداف کا تعین کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر