اسلام آباد اور راولپنڈی میں جرائم میں اضافہ

اپریل کے مہینے میں چوری کے 167 کیسز، 150 اسٹریٹ کرائمز، 78 خواتین کے اغوا کے کیسز درج کرائے گئے ہیں۔

اسلام آباد راولپنڈی میں گھروں میں رہنے کے سخت احکامات کے باوجود جڑواں شہروں میں چوری، ڈکیتیوں، موبائل فون چھیننے اور گاڑیاں چرانے جیسے جرائم میں مارچ کے مقابلے میں اپریل میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کے محکمہ کے اعدادوشمار کے مطابق راولپنڈی سے گذشتہ ماہ کے دوران کم از کم 312 موٹر سائیکلز مختلف مقامات سے چھینی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ 50 گاڑیاں اور 27 دیگر سواریوں کو لوٹا گیا ہے جس میں رکشے اور پک اپ وینز شامل ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے 159 شہریوں نے اسلحے کے زور پر رقم لوٹے جانے، طلاعی زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی چوری جیسے جرائم کی کی رپورٹس درج کرائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ اسمبلی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع

اپریل کے مہینے میں چوری کے 167 کیسز، 150 اسٹریٹ کرائمز، 78 خواتین کے اغوا کے کیسز درج کرائے گئے ہیں۔ جبکہ گدشتہ ایک ماہ کے دوران اوسطاً 10 موبائل فونز یومیہ چھینے گئے۔

گذشتہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق راولپنڈی پولیس کے پاس یکم جنوری سے 15 مارچ کے دوران اسٹریٹ کرائمز کے 2009 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ رواں سال صرف اپریل کے مہینے میں 1783 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اپریل میں ہر 24 گھنٹوں کے دوران 20 جرائم کیے گئے ہیں۔

نیوز 360 کو موصول ہونے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد ڈھوک کشمیریاں کے علاقے میں موبائل فون کی دکان کو لوٹ رہےہیں۔

جرائم کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کی عمر 15 سے 35 برس کے درمیان تھیں۔ غربت، بے روزگاری اور ایکشن تھرلر فلموں کو کثرت سے دیکھنا نوجوانوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی وجوہات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

GEO TV

مجرمانہ کارروائیوں میں اضافہ کرونا کی وبا کے باعث تباہ ہوتی معاشی صورتحال اور بے روزگاری کی وجہ سے ہوا ہے جس نے کئی خاندانوں کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر