کراچی میں سال کی سب بڑی نقب زنی کی واردات

کلف مارکیٹ میں ڈکیتی کے مقدمات ماڈل پولیس اسٹیشن کلفٹن اور بوٹ بیسن تھانے میں درج کرلیے گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے تین تلوار کے قریب رواں سال کی سب کی بڑی نقب زنی کی واردات ہوئی ہے۔ نامعلوم ملزمان کلف مارکیٹ میں واقع زیورات کی دکان سے 12 کلو کے قریب سونا لوٹ کر فرار ہوگئے ہیں جس کی مالیت تقریباً 10 کروڑ روپے بنتی ہے۔

پولیس نے دکان کے مالک محمد آصف کی مدعیت میں کلفٹن ماڈل پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا تحریک انصاف پی پی 84 خوشاب کا ضمنی انتخاب جیت پائے گی؟

ایف آئی آر کے متن کے مطابق دکان مالک محمد آصف 3 مئی کو افطاری کے لیے دکان بند کرکے گئے تھے۔ 4 مئی کی صبح واپس آنے پر انہوں نے دیکھا کہ دکان کے تالے ٹوٹے ہوئے ہیں اور 12 کلو سے زیادہ کے تیار شدہ طلائی زیورات چوری ہو چکے ہیں۔ مدعی کے مطابق دکان پر تیار شدہ اور بکس میں رکھے زیورات فروخت کیے جاتے ہیں۔

کراچی بڑی نقب زنی

ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض کا کہنا ہے کہ پولیس کو واردات کی اطلاع کئی گھنٹوں کے بعد دی گئی تھی۔ مارکیٹ میں اندر جانے کا ایک ہی دروازہ ہے جس پر تالے لگے ہوتے ہیں اور 4 چوکیدار ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

ان کے مطابق مدعی مقدمہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ تمام سونا تجوری میں نہیں بلکہ صرف شوکیس میں رکھا ہوا تھا۔ ہم اس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں۔

نقب زنی کی اتنی بڑی واردات لیاقت آباد کی صرافہ مارکیٹ، حیدری کی صرافہ مارکیٹ یا کسی اور علاقے میں پیش نہیں آئی ہے بلکہ یہ کراچی کے پوش علاقے کلفٹن تین تلوار پر قائم صرافہ مارکیٹ میں ہوئی ہے۔ یہ علاقہ سکیورٹی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں دن رات پولیس کا گشت رہتا ہے۔ ایسے میں اتنی بڑی واردات ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ تحاریر