صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بل کابینہ سے منظور

بل صحافیوں کو اداروں سے تنخواہیں نا ملنے اور برطرفی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کابینہ نے صحافیوں کے تحفظ کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ صحافیوں کو بلاوجہ برطرفی سمیت مختلف معاملات میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ سے جرنلسٹ پروٹيکشن ايکٹ کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اب صحافیوں سے خبر کے ذرائع سے متعلق سوال نہیں کیا جاسکے گا۔ صحافیوں کے تحفظ کے بل کا مقصد صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے آزادی اظہار اور غیر جانبداری کو فروغ  دینا اور اسے موثر طریقے سے یقینی بنانا ہے۔

جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت صحافیوں کو ان کے اداروں سے تنخواہیں نا ملنے، تاخیر سے ملنے، بغیر کسی وجہ کے ادارے سے برطرف کیے جانے اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے معاملات سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

بل کے مطابق صحافیوں کو متنازعہ علاقوں میں کام کا حق حاصل ہے اور انہیں کوئی ٹارگٹ یا ہراساں نہیں کر سکتا۔ ورکنگ جرنلسٹس کو دوران رپورٹنگ تحفظ دینا بھی ادارے کی ذمہ داری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

جبری گمشدگیوں اور صحافیوں کے تحفظ کا بل کابینہ کمیٹی سے منظور

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن قائم کیا جائے گا۔ کمیشن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، نیشنل پریس کلب، وزارت اطلاعات اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیشن کسی بھی حادثے کی صورت میں تحقیقات کرے گا۔ کمیشن کو رپورٹ اور سزا کی تجویز بھی حکومت کو دینا ہوگی۔

بل کے متن کے مطابق صحافیوں کے لیے جرنلسٹ ویلفیئر اسکیم شروع کی جائے گی۔ ہر میڈیا مالک کو صحافیوں کے لیے تحریری صحافتی پالیسی اور پروٹیکشن دینا بھی لازمی ہوگا۔

جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ اب منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر