بجٹ ہے لیکن سندھ میں انفیکشس ڈزیزز اسپتال نہیں

23.5 ارب روپے کے بجٹ کی صرف 20 فیصد رقم خرچ ہوئی ہے اور اسپتالوں کا قیام عمل میں نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے اعلان کے باوجود سندھ میں انفیکشس ڈزیزز اسپتال قائم نہیں ہوسکے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے اعلان کیا تھا کہ ڈویژن کی سطح پر انفیکشس ڈزیزز سینٹرز اور اسپتال قائم کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت سندھ ترقیاتی بجٹ استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بجٹ ہونے کے باوجود صرف 20 فیصد رقم خرچ ہوئی ہے اور اسپتال قائم نہیں ہوسکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرونا کیسز میں اضافے کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں عروج پر

حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بےنظیر آباد میں انفیکشس ڈزیزز اسپتالوں کے لیے رقم رکھنے کے باوجود قائم نہیں ہوسکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدر آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں انفیکشس ڈزیزز اسپتالوں کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اس کے لیے میرپورخاص میں 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی سستی اور کرونا کی صورتحال کے سبب محکمے کی ترقیاتی رقم خرچ نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کے بڑے دعوے صرف کراچی تک محدود ہیں۔ کرونا کیسز کی شرح میں حیدرآباد دیگر شہروں کی نسبت آگے ہے۔ سندھ حکومت اور پوری قیادت کی توجہ صرف کراچی تک محدود رہی ہے۔ حیدرآباد کو نظرانداز کرنے کے باعث کرونا کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے دیگر شہروں کے اسپتالوں میں گنجائش نہیں بڑھائی گئی ہے۔

امریکا ویکسین دوسری خوراک
Xinhua

4 ارب 30 کروڑ روپے رکھنے کے باوجود سندھ کے ڈویژنز میں انفیکشس ڈزیزز سینٹرز نہیں بن سکے ہیں۔ جبکہ رواں سال 23.5 ارب روپے میں سے صرف 10 ارب خرچ ہونے کا امکان ہے۔

ڈزیزز اسپتالوں کے لیے شہید بےنظیر آباد کے لیے 1 ارب 30 کروڑ جبکہ حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ کے لیے 2 ارب اور میرپورخاص کے لیے 30 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں یہ اسپتال قائم نہ ہونے کے باعث صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ محکمہ صحت کی توجہ صرف کراچی تک سہولیات دینے تک محدود ہے۔ حیدرآباد میں کرونا کی صورتحال میں ابتر ہوتی جارہی ہے اور اسپتالوں میں جگہ محدود ہونے کے باعث مریض پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر