کڑک نوٹوں کی عیدی، عیدالفطر کی روایت یا ثقافت؟

یہ رواج تو نانجانے کب پڑا لیکن اب یہ عیدالفطر کے لیے ایسا لازم و ملزوم ہو گیا ہے کہ حکومتیں بھی اس رواج کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں اور اگر کبھی ایسا نا ہو پائے تو حکومتیں بھی معزرت خواہانہ انداز اختیار کرتی ہیں۔

جنوبی ایشیائی تہذیت و ثقافت خاصی قدیم ہے لیکن اس میں زیادہ تر تہواروں میں چاہے وہ کسی بھی مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے ہوں فراخ دلی، احسان اور خاص طور پر بچوں کی خوشیوں کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔

چاہے مثال لیں ہندو مذہب کی دیوالی کی، یا پھر وہ بابا گرونانک کی پیدائش کا تہوار ہو یا پھر قطعاً معاشرتی تہوار جیسے بیساکھی یا پھر بسنت۔ سب میں رنگوں کی بہار ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے لیے کھانے پینے اور پیسوں سے حاطر مدارات کرنے کا رواج ہے۔

مسلمانوں کے تہوار عید الفطر میں بھی ایسے ہی رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن جو بات قابل غور ہے وہ ہے عیدی۔ یعنی نئے اور کڑک نوٹوں کی شکل میں ملنے والی عیدی جو عید الفطر کے موقع پر بڑے اپنے سے چھوٹوں کو رقوم کی شکل میں دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں بالغان کی فلم کے ٹرینڈ پر صبا قمر کا طنز

یہ رواج تو نانجانے کب پڑا لیکن اب یہ عیدالفطر کے لیے ایسا لازم و ملزوم ہو گیا ہے کہ حکومتیں بھی اس رواج کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں اور اگر کبھی ایسا نا ہو پائے تو حکومتیں بھی معزرت خواہانہ انداز اختیار کرتی ہیں۔

پاکستان میں بھی عیدالفطر پر لوگ نئے اور کڑک نوٹوں کی شکل میں عیدی دیتے ہیں۔ عیدی پاکستان میں عیدالفطر کا لازی جز سمجھی جاتی ہے۔ پاکستانی حکومت بھی اس رواج کا خیال رکھتے ہوئے سارے سال کے دوران نئے نوٹ چھاپنے کا وقت بھی عیدالفطر کی مناسبت سے طے کرتی ہے تاکہ لوگوں کو اس تہوار پر نئے نوٹ مل سکیں۔

The Financial Express

سرکاری ملازمین کو تنخواہ ہی نئے نوٹوں کی شکل میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ اپنے اپنے بینکوں سے بھی نئے نوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن پاکستان کی حکومت نے دو سالوں سے ملک میں نئے نوٹ چھاپنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ انکار حکومت پاکستان نے کووڈ 19 کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے دو کام ہوتے نظر آئے ہیں۔ ایک تو لوگوں نے محدود تعداد میں چھپنے والے نوٹوں کے حصول کے لیے دوڑ دھوپ تیز کر دی اور کہیں کہیں تو یہ نوٹ بلیک میں بکتے بھی نظر آئے۔

حکومت نے اس روایت کو توڑنے پر عوام سے معزرت بھی کی ہے۔ اس فیصلے سے بڑے تو براہ راست متاثر نہیں ہوئے لیکن بچوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس سال ان کو نئے نوٹ نہیں مل سکیں گے تو ان کی عید پھیکی پڑگئی ہے۔

یہ روایت اتنی عام ہے کہ عید پر دکھایے جانے والے ڈراماز اور فلموں میں عید کو کڑک دار نوٹوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور بقرا عید کو بکروں سے۔

عید کی رونقیں عیدی کے کڑک نوٹوں کے بغیر ماند پڑ گئی ہیں لیکن رواں برس لوگوں نے اس رونق کو ماند پڑنے سے اس طرح بچایا ہے کہ اگر ان کو کہیں سے تازہ نوٹ مل رہےہیں تو وہ ان کو پرانے نوٹوں سے بدل کر کم ازکم بچوں کے لیے مہیا کر رہے ہیں۔

حالانکہ عید میں تحفوں اور نیے کپڑوں کا مذہبی عنصر تو تاریخ سے ثابت ہے لیکن عیدی کے کڑک نوٹ نے ان کے برابر ہی جگہ بنا لی ہے۔ امید ہے کہ اگلے سال یہ رونقیں بحال ہوجائیں ورنہ یہ روایت یا ثقافت نئی نسل سے دور ہو جائے گی۔

متعلقہ تحاریر