ریلوے گینگ مین 4 روپے میں جوتا کیسے خریدیں؟
انگریزی سرکار کے دور میں گینگ مینز کے لیے مقرر کیا گیا 4 روپے جوتا الاؤنس آج بھی وہی ہے جبکہ سیفٹی شوز کی قیمت 15 سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کے محکمہ ریلوے کے گینگ مین ایک عرصے سے یہ گتھی سلجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ 4 روپے میں سیفٹی شوز کیسے خریدیں گے؟
انگریز دور میں گینگ مینز کے لیے خصوصی جوتا الاؤنس کا اعلان کیا گیا تھا اور انہیں اس الاؤنس کی مد میں ماہانہ 5 پیسے دیے جانے لگے تھے جو بعد میں بڑھا کر 4 روپے ماہانہ کردیے گئے تھے جو اب بھی جوتا الاؤنس کی مد میں 4 روپے ہی ہیں مگر مہنگائی کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ٹافی سے شروع ہونے والے الیکشن کا مٹھائی پر اختتام
گینگ مینز ریل کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مزدور ملک بھر کے پہاڑی، صحرائی اور میدانی علاقوں میں بچھی ہزاروں کلو میٹر طویل پٹریوں کی دیکھ بھال اور کدالوں کے ساتھ پتھروں سے زور آزمائی کر کے ریل کی پٹری تلے بجری بٹھاتے ہیں تاکہ ریل کا سفر محفوظ اور آرام دہ رہے۔

سخت سردی اور گرمی میں آہنی راستے کو ہموار بنانا ان گینگ مینز کی ذمہ داری ہے۔ اس اعصاب شکن مشقت میں مضبوط سے مضبوط جوتے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور چند ہی ہفتوں میں نئے جوتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مگر اوسطاً 16 ہزار روپے تنخواہ لینے والے یہ مزدوربچوں کے پیٹ کی آگ بجھائیں یا اپنی برہنہ پائی کا سامان خریدیں۔ یعنی چادر اتنی چھوٹی ہے کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پاؤں کھل جاتے ہیں۔
گینگ مینز کے جوتے کام کی سختی کی وجہ سے بار بار پھٹ جاتے ہیں اور اس تہی دامنی میں نیا جوتا خریدنا کار محال ہے۔ کیونکہ انہیں کوئی عام جوتا نہیں بلکہ محفوظ جوتے ہی چاہیے ہوتے ہیں۔ یوں مجبوراً انہیں چپلیں پہن کر ریل کی پٹریوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔

انہیں پریشانیوں میں مبتلا یہ مزدور بظاہر تو ریلوے لائن کے نیچے بچھی بجری کو کوٹتے ہیں مگر پتھروں پر پڑتی ضرب بتاتی ہے کہ وہ ستم ظرف حالات کا غصہ ان ہی پتھروں پر اتارتے ہیں۔ ریلوے میں گینگ مین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے جسے کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور ان کی کوئی سفارش بھی نہیں ہوتی ہے۔

کاش کے فیصلہ سازوں تک بھی یہ صدا پہنچ جائے کہ 4 روپے الاؤنس گینگ مینز کی پاپوشی نہیں کرتا بلکہ ان کی غربت کا منہ چڑاتا ہے۔
ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ریلوے (ڈی ایس) راولپنڈی انعام اللہ کا کہنا ہے کہ ’راولپنڈی ڈویژن میں گینگ مینز کی تعداد 1200 ہے جنہیں اب ریلوے ویلفیئر فنڈ سے پہلی مرتبہ سیفٹی شوز فراہم کیے جارہے ہیں۔ ہول سیل ریٹ پر جوتوں کا فی جوڑا 1500 روپے میں خریدا گیا ہے۔ ان جوتوں میں پیروں کی حفاظت کے لیے لوہا لگا ہوتا ہے۔‘

ڈی ایس راولپنڈی ریلوے انعام اللہ کا کہنا ہے کہ ’سیفٹی شوز کی وجہ سے اب مزدور کام کے دوران حادثے سے محفوظ رہیں گے۔‘
محکمہ ریلوے راولپنڈی ڈویژن کے گینگ مینز کو ایک مرتبہ تو سیفٹی شوز مل گئے ہیں مگر ملک کے دیگر علاقوں کے گینگ مینز آج بھی سیفٹی شوز سے محروم ہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ ان کے 4 روپے جوتا الاؤنس میں مناسب اضافہ کب کیا جائے گا؟









