’لکی ون‘ مال کی لاپرواہی نے ایک شخص کو معذور کردیا
منگل کو کراچی میں گرد کے طوفان سے لکی ون کی عمارت پر نصب بل بورڈ گر گیا تھا جس سے مال کے ملازم معذور ہوگئے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں موجود نجی شاپنگ مال ’لکی ون‘ کی لاپرواہی نے ایک شخص کو معذور کردیا ہے۔
منگل کے روز کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ گرد کا طوفان (تاؤتے) آیا تھا جس کے نتیجے میں کئی حادثات دیکھنے میں آئے تھے۔ مختلف علاقوں میں بارش بھی ہوئی تھی اور 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔ تاہم اسی روز نجی شاپنگ مال ’لکی ون‘ کی غفلت اور لاپرواہی نے ایک شخص کو معذور بھی کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی کے علاقے کلفٹن کا اندھا موڑ
گرد کے طوفان کے باعث نجی شاپنگ مال ’لکی ون‘ کی عمارت پر نصب کیا گیا ایک بڑا بل بورڈ سید اشعر شاہ نامی شخص کے اوپر آ گرا تھا جو اسی شاپنگ مال کے ملازم ہیں۔ اس حادثے میں شاپنگ مال کے ملازم معذور ہوگئے تھے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب اطراف میں موجود لوگ بل بورڈ کے نیچے دبے ہوئے اشعر کی مدد کو پہنچے تو وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’میرے کمر گئی۔‘
اس حادثے کے بعد اشعر شاہ کی مدعیت میں فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانے میں شاپنگ مال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں معذور ہونے والے شخص اشعر نے کہا ہے کہ ’میں مال میں بحیثیت سیلزمین ملازمت کرتا ہوں۔ میں کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کررہا تھا۔ دروازے کے ساتھ دیوار پر لگایا گیا بڑا سائن بورڈ مجھ پر گر گیا۔ میں اس کے نیچے دب کر چیخنے چلانے لگا۔ مجھے لوگوں نے نکالا تو میں چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔ مجھے اٹھا کر ایمبولینس کے ذریعے گلشن پٹیل اسپتال پہنچایا گیا۔‘
اشعر کے والدین کا کہنا ہے کہ ’اشعر کی ریڑھ کی ہڈی ایل ون ٹوٹ گئی ہے جس کے وجہ سے وہ معذور ہوگئے ہیں۔‘
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی محمد اسلم خان نے اس حادثے پر کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بلدیہ وسطی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ بل بورڈ گرنے سے نہیں بلکہ کام کے دوران پلائی ووڈ (لکڑی کا ایک مضبوط پتلا تختہ) گرنے سے ملازم زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ محمد اسلم خان اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ لکی ون پر بل بورڈ گرنے کی وجہ سے ہی یہ حادثہ پیش آیا ہے۔

اس حادثے کے بعد بلدیہ وسطی کے لیے نئی مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے کیونکہ منتخب نمائندے کی حیثیت سے محمد اسلم خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیشگی اطلاع دے رکھی تھی کہ ضلع وسطی کے مختلف مقامات پر غیر قانونی طور پر بل بورڈز نصب ہیں جو حادثات کا سبب بن سکتے ہیں لیکن ان کی بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی بل بورڈز ہٹائے گئے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بل بورڈز سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے سرکاری عمارتوں سے بل بورڈز ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر تمام کنٹونمنٹ بورڈز اور پرائیویٹ سیکٹر بھی عملدرآمد کریں۔
جبکہ سنیچر کے روز سندھ حکومت نے سمندری طوفان کے پیش نظر شہر قائد سے بل بورڈز ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن حکومتی احکامات کے باوجود بل بورڈز لگے رہے۔









