حکومت کو میڈیا مالکان پر کڑی نگاہ رکھنی پڑے گی

حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کا بل پیش کر کے اپنا کام کردیا ہے اور اب میڈیا مالکان پر ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کریں۔

پاکستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے کارکنان کے تحفظ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب میڈیا مالکان نے صحافت کی آزادی کو اپنے مفادات کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے اور اس لیے حکومت کو ان پر کڑی نگاہ رکھنی ہوگی۔

جمعے کے روز وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں بتایا کہ ہمارا جرنلسٹ اور میڈیا پروفیشنلز پروٹیکشن بل آخر کار قومی اسمبلی میں متعارف کرا دیا گیا ہے جو اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے پاس جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اے آر وائی نیوز کی پیمرا قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں

ڈاکٹر شیریں مزاری نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بل میں حصہ لیا اور قیمتی آراء سے نوازا۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے بل میں ڈی آر ایف کی نگہت داد اور میڈیا کے پیشہ ور افراد کے حصے کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کے نامور صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بل کے حوالے سے کہا ہے کہ درست سمت میں قدم رکھا گیا ہے لیکن ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی اور آزاد صحافت موجود ہے لیکن صحافیوں کے حقوق کے لیے یہاں کئی مسائل ہیں۔ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کا بل پیش کر کے اپنا کام کردیا ہے اور اب میڈیا مالکان پر ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کریں۔

میڈیا مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور اس کے ذیلی کمیٹی ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (اے ای ایم ای این ڈی) نے صحافت کی آزادی کو مفادات کی بیڑیوں میں جکڑ دیا ہے۔ یہ تنظیم کبھی اپنے اداروں میں کام کرنے والے کارکنان کے مسائل پر اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرتی ہے۔

اس تنظیم کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں نجی نیوز چینل اے آر وائی نے کراچی میں این اے 249 کے انتخاب کے نتائج کی خبریں قبل از وقت نشر کر کے، اور کیمبرج امتحانات سے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کر کے پیمرا کی خلاف ورزی کی تھی۔ اے آر وائی پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کا رکن ہے اس لیے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ لیکن اسی دوران پی بی اے نے بدنیتی، غیر اخلاقی اور بےبنیاد مواد نشر کرنے پر ’بول گروپ‘ پر کڑی تنقید کی تھی کیونکہ یہ اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ پی بی اے نے بول نیوز پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے پیمرا پر زور بھی دیا تھا۔

حال ہی میں ملک کی میڈیا انڈسٹری میں بحران آیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے صحافیوں کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ جمعے کے روز قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کا بل متعارف کروا کر حکومت نے تو اپنا کام کردیا ہے لیکن اب میڈیا مالکان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔ میڈیا مالکان کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کو جبری برطرفی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی بنیاد پر تنخواہوں میں کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

اکثر و بیشتر صحافی کسی بھی حادثے کی جگہ یا موقع واردات پر پہنچ کر رپورٹنگ کرتے ہیں جہاں مزید کسی بھی طرح کے حادثے کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے صحافیوں کو میڈیکل انشورنس (صحت کی سہولیات) دی جانی چاہئیں۔ خدانخواستہ اگر صحافی کے ساتھ حادثہ پیش آجائے تو اس کے اہل خانہ کے نان نفقے کی ذمہ داری لی جائے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنسلٹ کے دسمبر 2020 میں شائع ہونے والے وائٹ پیپر کے مطابق پاکستان میں 1990 سے لے کر اب تک 138 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

اس وقت ملک کے بڑے نیوز چینل جیو اور اے آر وائی بھی اپنے ملازمین کو گریجوئٹی اور پروویڈنٹ فنڈ کی سہولیات نہیں دیتے جس کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوششیں تیز ہورہی ہیں تاہم حکومت اور پارلیمان یقینی بنائے کہ پی بی اے اور اس کی ذیلی تنظیم صحافت کے آزاد ماحول کو برباد نہ کریں اور اس حوالے سے میڈیا مالکان پر بھی کڑی نگاہ رکھیں۔

متعلقہ تحاریر