کیا حکام گلشن اقبال میں گیس لیکج سے دھماکے کے منتظر ہیں؟

گذشتہ سال اکتوبر میں گلشن اقبال میں گیس لیکج سے دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلشن اقبال کی سیوریج لائن سے گیس لیکج جاری ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی زندگیاں شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

شکایات موصول ہونے کے بعد نیوز 360 کے نامہ نگار نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال کا دورہ کیا جہاں قدری گیس کے اخراج کا مسئلہ درپیش ہے۔

نیوز 360 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے علاقہ مکینوں نے بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ضلعی آفس میں کئی مرتبہ شکایات درج کرانے کے باوجود مسئلے کا حل نہیں نکالا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وسیم محمد کا سیلز مین سے پی ایس ایل تک کا سفر

گلشن اقبال کے ایک مکین کا کہنا تھا کہ گذشتہ 3 روز سے ہم اس مسئلے کی شکایت حکام بالا سے کر رہے ہیں مگر کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے۔

ایک خاتون خانہ کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن اور قدرتی گیس کے اخراج سے پیدا ہونے والی تعفن زدہ بو نے سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک مرتبہ گھر کے باورچی خانے میں گیس لیکج کی وجہ سے آگ بھی لگ چکی ہے لیکن حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں خود ہی گیس کمپنی کے کارکنان سے رابطہ کرنا پڑا جنہوں نے کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد پتا لگایا کہ اصل میں رساؤ سیوریج لائن میں گزرنے والی گیس لائن سے ہورہا ہے۔

خاتون خانہ کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ بہت سنگین ہے مگر حکام کا رویہ بہت افسوسناک ہے۔ ایسا لگتا ہے کوئی المیہ ہی حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں گلشن اقبال میں ہی گیس لیکج سے دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

متعلقہ تحاریر