پاکستان میں ٹی وی چینلز کی ریٹنگ کا گورکھ دھندا

22 کروڑ سے زیادہ کی آبادی والے ملک پاکستان میں صرف 2 ہزار گھروں کے ڈیٹا سے ریٹنگ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آپ نے اکثر نجی ٹی وی چینلز کو ریٹنگ کی دوڑ میں بھاگتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ بسا اوقات کسی نجی ٹی وی چینل کو یہ کہتے بھی سنا ہوگا کہ وہ ریٹنگ میں دیگر چینلز پر بازی لے گیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ریٹنگ نکالنے کا کیا طریقہ کار ہے؟

پاکستان میں صحافت کے علم بردار اینکر پرسنز اپنے ٹاک شو میں مختلف نقطہ نظر کے حامل افراد یا مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بٹھا کر ماحول میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔ شرکاء ایک دوسرے سے لڑتے ہیں لیکن پروگرام کے میزبان صرف دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ دراصل یہ سب کچھ ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عید پر ٹی وی چینلز کیا کررہے تھے؟

ریٹنگ کیا ہے؟

جس طرح ہر چیز کو ناپنے کا ایک پیمانہ موجود ہے اسی طرح ٹی وی چینلز یا پروگرامز کی ریٹنگ کی پیمائش کا بھی ایک پیمانہ ہے۔ اس پیمانے کو ٹی آر پی (ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ) کہا جاتا ہے۔

ریٹنگ کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟

ریٹنگ کی پیمائش کے لیے ملک کے چند گھروں میں ٹی وی کے ساتھ ریٹنگ میٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ ان ریٹنگ میٹرز کی مدد سے گھروں سے ڈیٹا اکٹھا کر کے ریٹنگ کا فیصلہ کرنے والی کمپنی کو بھیجا جاتا ہے۔ ٹی آر پی (ٹی وی ریٹنگ پوائنٹ) کے لیے فریکوئنسی مانیٹرنگ میٹر کا استعمال کیا جاتا ہے جسے پیپل میٹر کہا جاتا ہے۔

اس ڈیٹا کا سب سے اہم جزو آڈیو ہوتا ہے جس سے ریٹنگ کا فیصلہ کرنے والی کمپنی کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کون کون سے پروگرام یا چینلز دیکھے گئے ہیں۔ اس کمپنی کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے ریٹنگ میٹرز نصب کرنے کے لیے صرف چند گھروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ان گھروں کا انتخاب اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہر عمر، نسل اور دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی نمائندگی ممکن ہوسکے۔

پاکستان میں کتنے ریٹنگ میٹرز نصب ہیں؟

پاکستان میں ٹی آر پی کا کام 2 کمپنیز میڈیا لاجک اور گیلپ کرتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 2 ہزار گھروں میں ریٹنگ میٹرز نصب ہیں جو ٹی وی ریٹنگ کا فیصلہ کرتے ہیں۔

میڈیا لاجک کمپنی کے مالک سلمان دانش نے مقامی نیوز ویب سائٹ پروفٹ پاکستانی سے گفتگو کے دوران کہا کہ اِن گھروں کا انتخاب آبادی کی نمائندگی کے طور پر کیا گیا ہے۔ پینل جتنا بڑا ہوگا تحقیق کی لاگت بھی اتنی ہی زیادہ آئے گی۔ موکل (کلائنٹ) بہت زیادہ نمونوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں لہٰذا انہوں نے یہ کام ایک بہت ہی چھوٹے پینل کے ساتھ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ریٹنگ کتنی معتبر؟

22 کروڑ نفوض سے زیادہ افراد پر مشتمل ملک پاکستان میں ٹی آر پی (ٹی وی ریٹنگ پوائنٹ) کی پیمائش کے لیے صرف 2 ہزار پیپل میٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ پیپل میٹرز چند بڑے شہروں میں لگائے گئے ہیں جن میں کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، حیدرآباد، ملتان، فیصل آباد اور پشاور شامل ہیں۔ ایک سروے کے مطابق زیادہ تر پیپل میٹر صرف شہری علاقوں میں نصب کیے گئے ہیں اور دیہی علاقوں کی کوئی نمائندگی موجود نہیں ہے حالانکہ ملک کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹی آر پی کمپنی کے مالک کے ٹی وی چینلز کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر ریٹنگ ظاہر کی جاسکتی ہے۔ اگر ٹی آر پی کمپنی کے مالک کے تعلقات کسی چینل سے اچھے ہوں گے تو اس چینل کی ریٹنگ آسمان چھو رہی ہوگی۔ لیکن اگر کسی میڈیا ادارے کے ٹی آر پی کمپنی کے مالک سے تعلقات برے نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ ٹی آر پی کی فہرست میں اس چینل کا نام ہی موجود نہ ہو۔

متعلقہ تحاریر