ملک بھر کی تمام جامعات میں تدریسی عمل معطل

گذشتہ روز پشاور یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

پشاور میں گذشتہ روز ہونے والے اساتذہ کے احتجاج میں ہنگامے کے باعث آج ملک بھر کی تمام جامعات میں تدریسی عمل معطل ہے۔

پشاور کی سرکاری جامعات کے اساتذہ اور ملازمین مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں۔ گذشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر جامعات میں الاؤنسز کی بحالی اور اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والے اساتذہ پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا چھڑکاؤ کیا۔ پولیس نے سڑک سے رکاوٹیں ہٹا کر روڈ کو ٹریفک کے لیے کھولا تو مظاہرین دوبارہ سامنے آگئے اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پوٹا) کے صدر فضل ناصر سمیت متعدد اساتذہ کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

ملک بھر کے اساتذہ کی جانب سے پشاور یونیورسٹی گریٹر کیمپس کی جامعات کے پروفیسرز اور ملازمین پر تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پوٹا کی ہڑتال کی کال پر ملک کی تمام جامعات میں آج تدریسی عمل معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جامعات سے پارلیمنٹ لاجز تک منشیات کا کاروبار عروج پر

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فوپواسا) کے صدر ڈاکٹر شاہ عالم نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی ہایئر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے، طلبہ و طالبات کی فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے، تنخواہوں میں الاؤنسز کی مجوزہ کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے اور یونیورسٹی اسٹاف کو تنخواہ میں 25 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس کا اجراء کیا جائے۔

ڈاکٹر شاہ عالم نے مزید کہا کہ تمام مطالبات کی منظوری تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متعلقہ تحاریر