صحافی گل بخاری اور اسد طور آمنے سامنے

اسد طور نے گل بخاری کے دعووں کو ان کے مقدمے کو کمزور کرنے کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی صحافی گل بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی صحافی اسد طور پر تشدد اینکر پرسن عمران ریاض نے خفیہ ادارے کے ایک دوست کی مدد سے کیا تھا۔ دوسری جانب تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی اسد طور نے گل بخاری کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی صحافی گل بخاری نے کہا ہے کہ حملہ کرنے والوں میں دو لوگ خفیہ ادارے سے تھے جبکہ ایک عمران ریاض کے ذاتی محافظ تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بےروزگار صحافی اسد طور پر بہیمانہ تشدد

ان کا کہنا ہے کہ عمران ریاض نے اسد طور پر حملہ کیوں کروایا؟ اسد طور اپنے ولاگز میں تواتر سے عمران ریاض کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں اور عمران ریاض کو گیلا تیتر کا لقب بھی اسد طور نے ہی دیا تھا جس پر اینکر پرسن کو شدید غصہ تھا۔

گل بخاری کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے صحافی اسد طور نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ وہ کہانی بالکل جھوٹ اور میرے مقدمے کو کمزور کرنے کے لیے پروپیگنڈا ہے۔ پولیس میرے مقدمے کی تفتیش کررہی ہے اور میں اس تفتیش کے اختتام کا انتظار کررہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والے اس طرح کے نظریات مجھ پر تشدد کرنے والے افراد کے لیے ضمانت کا جواز پیدا کررہے ہیں۔

پاکستان کے معروف صحافی جمیل فاروقی نے گل بخاری کی معلومات پر طنز کرتے ہوئے انہیں 21 توپوں کی سلامی پیش کی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے گل بخاری کے انکشاف پر ردعمل میں لکھا ہے کہ اسد طور پر حملے کی خبر عمران ریاض کا کیریئر کھا جانے کی طاقت رکھتی ہے۔

متعلقہ تحاریر