کراچی کا لیپروسی اسپتال مریضوں کے لیے وبال جان

مریضوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں سہولیات کے فقدان نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے منگھو پیر میں قائم لیپروسی (جذام) اسپتال مریضوں کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ سہولیات کے فقدان نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ 

بدھ کے روز کراچی سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی اور پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے رکن علی اکبر چھیلو نے میٹروپولیٹن کمشنر دانش سعید کے ہمراہ منگھو پیر میں قائم کے ایم سی کے ماتحت چلنے والے لیپروسی اسپتال کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں کرونا سے اموات رک گئیں

سہولیات کے فقدان کا شکار لیپروسی اسپتال میں داخل مریضوں نے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔

مریضوں نے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی کھانے کو کچھ فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے بھی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔

لیپرسی اسپتال وبال جان

مریضوں نے بتایا کہ لیپروسی اسپتال کی پانی کی لائن کاٹ دی گئی ہے۔ اسپتال میں قائم لیبارٹری میں ادویات میسر نہیں ہیں جبکہ نشے کے عادی افراد ان کا سامان چوری کرلیتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مریضوں نے گلہ کیا کہ ڈاکٹرز اسپتال کا دورہ کرتے ہیں مگر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ بھی ہمارا چیک اپ ٹھیک سے نہیں کرتے پاتے ہیں۔

لیپروسی اسپتال وبال جان

اس موقع پر ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کے ایم سی انتظامیہ کو لیپروسی (جذام) اسپتال میں زیرتعمیر عمارت کو امراض قلب کے مریضوں کے لیے کھولنے کی ہدایت کی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ ہے کہ سندھ میں صحت کے حوالے سے ترجیجی بنیادوں پر کام ہورہا ہے اور صوبائی حکومت پاکستان کے کسی بھی اسپتال سے بہتر سہولیات فراہم کررہی ہے۔ ان کا یہ دعویٰ درست بھی ہوسکتا ہے لیکن جذام بھی ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ہے۔ منگھو پیر میں قائم لیپریسی اسپتال میں سہولیات کے فقدان پر بلاول بھٹو زرداری کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

متعلقہ تحاریر