حکومت اور میڈیا اداروں کے درمیان تناؤ کی کمی کے لیے اہم اقدام

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تجویز کردہ بل پر میڈیا کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

پاکستان کی حکومت اور میڈیا اداروں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے اہم اقدام اٹھا لیا گیا ہے۔

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے تجویز کردہ بل پر میڈیا کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ بدھ کے روز پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تشکیل دی گئی 4 ممبران پر مشتمل کمیٹی کی سربراہی وزیر مملکت فرخ حبیب کر رہے ہیں۔

یہ اقدام پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (اے ای ایم ای این ڈی) سمیت میڈیا تنظیموں کی جانب سے پی ایم ڈی اے کی تشکیل کے خلاف اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صحافیوں کو میڈیا مالکان کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت

یکم جون کے اجلاس کے بعد پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ پی ایم ڈی اے کا مقصد میڈیا کی آزادی میں رکاوٹوں کو قابو کرنا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ میڈیا ادارے قانونی اور اشتہاری مہمات سے پی ایم ڈی اے کے قیام کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یو جے اور ایم ای ایم ای ڈی کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ سرکاری کمیٹی کی تشکیل کے ساتھ حکومت پی ایم ڈی اے کے قیام پر جھگڑا ختم کرنے اور آزادی صحافت کے لیے سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر